ایران امریکا جنگ بندی ختم ہونے میں صرف تین دن باقی رہ گئے،مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی تاریخ بھی طے نہ ہوسکی ۔ امریکی عہدیدار کے مطابق اگر ڈیڈ لائن سے پہلے مذاکرات میں پیشرفت نہ ہوئی تو جنگ دوبارہ شروع ہوسکتی ہے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیرصدارت وائٹ ہاؤس کےسچویشن روم میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، آبنائے ہرمز کی تازہ ترین صورتحال اور ایران سے مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا،امریکی میڈیا کےمطابق صدر ٹرمپ نے اس دوران پاکستان اور ایرانی حکام سے بھی رابطہ کیا،
وائٹ ہاوس حکام کی جانب سےجاری بیان میں کہاگیا ہےکہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں چند دنوں میں اہم پیشرفت متوقع ہے،ہم پاکستان میں مزید بات چیت کےمنتظر ہیں۔
امریکی عہدیدار نےبتایاکہ صدر ٹرمپ سیز فائرکی مدت ختم ہونے سے قبل تنازع حل کرنا چاہتے ہیں، اگر مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہ ہوئی تو جنگ دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔
اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس سمیت وزیرخارجہ،وزیرجنگ،چیئرمین جوائنٹ چیفس ڈی کین اور سی آئی اے چیف نے بھی شرکت کی ۔
ادھر روس نے ایرانی یورینیم کو ہٹانےمیں مدد کی پیش کش کردی،روسی جوہری توانائی کارپوریشن نے جاری بیان میں کہا روس واحد ملک ہےجس کا ایران کے ساتھ تعاون کا اچھا تجربہ ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نےکہاامریکی صدر ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سےمتعلق بیانات بے معنی ہیں،آبنائے ہرمز امریکی جنگ بندی کی خلاف ورزی کے باعث بند رہے گی، آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی،خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں کوئی بھی جہاز اپنی جگہ سے حرکت نہ کرے، آبنائے ہرمز کے قریب جانا دشمن کے ساتھ تعاون سمجھا جائے گا،اگر غیرملکی جہازوں نے کوئی حرکت ک تو نشانہ بنائیں گے،تمام جہاز پاسدارانِ بحریہ کی سرکاری معلومات پر عمل کریں۔
دوسری جانب حزب اللہ کےسربراہ نعیم قاسم نے اپنے بیان میں کہااسرائیل کے ساتھ جنگ بندی یکطرفہ نہیں ہو سکتی، دس روزہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار نہیں رہ سکتی جب تک دونوں فریق پابندی نہ کریں،جنگ بندی کا مطلب تمام لڑائی اور دشمنی کا مکمل خاتمہ ہے،ہمیں اسرائیل پر اعتماد نہیں ،ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں،ہمارے جنگجو لبنان میں اسرائیلی حملوں کا جواب دیں گے






















