یواین جنرل اسمبلی میں پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی، کشیدگی میں کمی، مذاکرات بحالی پر زور دیا ہے۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمزمیں رکاوٹ عالمی معیشت کوشدید نقصان پہنچاسکتی ہے۔
یو این میں آبنائے ہرمز بحران کے ویٹومباحثے پر خطاب کے دوران پاکستانی مندوب عاصم افتخارکاکہناتھاکہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ پیشرفت دنیاپرمنفی اثرات مرتب کررہی ہے، یہ بحران ابتدا ہی سے روکا جا سکتا تھا۔ پاکستان نے شروع سے ہی امن، مذاکرات اور سفارتی حل کوترجیح دی اور11اور12اپریل کواسلام آبادمیں مذاکرات کی میزبانی کی۔
عاصم افتخار کے مطابق مذاکرات فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنےکی کوششوں کاحصہ تھے، انہوں نے"اسلام آبادمذاکرات جنگ کے خاتمے اور دیرپا امن کےقیام کی جانب اہم پیشرفت قراردیئے۔ پاکستانی مندوب کے مطابق پاکستان خطےکےممالک کی خودمختاری،سالمیت اورسلامتی کاحامی ہےپاکستان خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک سےمکمل یکجہتی کااظہار کرتاہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمزعالمی توانائی اورتجارتی ترسیل کیلئے کلیدی بحری راستہ ہے، آبنائےہرمز میں رکاوٹ عالمی معیشت کوشدید نقصان پہنچاسکتی ہے۔ موجودہ صورتحال سے توانائی،کھاد اور دیگر اشیاکی فراہمی متاثرہورہی ہے،مہنگائی سےغذائی تحفظ اور روزگار کے مسائل میں اضافہ ہورہاہے،بحران عالمی سطح پر معاشی دباؤ، عوامی قرض میں اضافےکاباعث بن سکتاہے۔




















