وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس دوران اسلام آبادمذاکرات کے بعد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،وفاقی کابینہ کو موجودہ داخلی اور خارجی صورتحال پر اعتماد میں لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات ذخائر اور توانائی کی صورتحال پر رپورٹ اور اسحاق ڈار نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور پاکستان کے ثالثی کردار پر بریفنگ دی۔کابینہ ارکان نے وزیراعظم،نائب وزیراعظم اور فیلڈمارشل کی مصالحتی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اسلام آباد مذاکرات کے ثمرات کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے متحرک کردار جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا، پاکستان کا خطے میں مستقل امن کیلئے سفارتی کوششیں تیز کرنے کا فیصلہ کیاہے۔
وزیراعظم نے ایران امریکا جنگ بندی کی توسیع کیلئے بھرپور کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا ، ایران امریکا مذاکرات میں پاکستانی قیادت کے مثبت کردار پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور مستقل جنگ بندی کیلئے عالمی سطح پر رابطوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
وفاقی کابینہ نے کہا کہ پاکستان کشیدگی کے خاتمے اور قیام امن کیلئے مصالحتی کردار جاری رکھے گا،وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو سفارتی محاذ پر مزید متحرک رہنے کی ہدایات جاری کیں اور کہا کہ پاکستان مل کر جنگ بندی کو طویل المدتی امن میں بدلنے کیلئے کوشاں رہے گا، خطے کا امن عالمی معیشت اور استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔
وفاقی کابینہ نے ایران امریکا جنگ بندی کا تسلسل عالمی امن کی ضمانت قرار دیا، تنازع کے پرامن حل کیلئے ’’پل‘‘کا کردار جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا، سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔
اجلاس میں مستقل جنگ بندی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے تکنیکی تجاویز پر غور کیا گیا جبکہ وزیراعظم شہبازشریف نے فریقین پر قیام امن کیلئے مستقل جنگ بندی پر زور دیا۔





















