نائب وزیر اعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان حالیہ علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اسحاق ڈار نے خطے میں امن و استحکام اور سلامتی کیلئے مذاکرات اور سفارتکاری پر زور دیا، دونوں رہنماؤں نے بدلتی ہوئی صورتحال پرقریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا ۔
یاد رہے کہ فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ پاکستان خود کو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنرل عاصم منیر نے اتوار کے روز ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بات چیت کی۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق سینئر پاکستانی حکام نے ایرانی حکام،اسٹیووٹکوف اورجیرڈ کشنرکےپسِ پردہ رابطے کروائے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی اور ایرانی قیادت کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی مؤخر کرنے کا اعلان کیا، اور کہا کہ تہران کے ساتھ “بہت اچھی اور مثبت” بات چیت ہوئی ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق یہ واضح نہیں کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں اور ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، کے درمیان کوئی براہ راست تعلق ہے یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا ہے





















