برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیاہے کہ پاکستان خود کو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے خاتمے کیلئے ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنرل عاصم منیر نے اتوار کے روز ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بات چیت کی۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق سینئر پاکستانی حکام نے ایرانی حکام،اسٹیووٹکوف اورجیرڈ کشنرکےپسِ پردہ رابطے کروائے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی اور ایرانی قیادت کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی مؤخر کرنے کا اعلان کیا، اور کہا کہ تہران کے ساتھ “بہت اچھی اور مثبت” بات چیت ہوئی ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق یہ واضح نہیں کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں اور ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، کے درمیان کوئی براہ راست تعلق ہے یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز
رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ ترکیہ ، مصر اور پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں ، یہ دعویٰ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے بجلی گھروں پر حملے موخر کرنے کے بعد سامنے آیاہے ۔
رائٹرز کا اپنی رپورٹ میں کہناتھا کہ ترکیہ ، مصر اور پاکستان نے سٹیووٹکوف اور عباس عراقچی سے الگ الگ مذاکرات کیئے ہیں اور بات چیت کا مقصد موجودہ کشیدگی میں کمی لانا تھا، بات چیت کے دوران جیرڈ کشنر اورسٹیو وٹکوف سمیت دیگر اہم شخصیات شامل تھیں ۔
رائٹرز کا کہناتھا کہ واشنگٹن نے ایران سے اپنی بات چیت کے بارے میں اسرائیل کو آگاہ کر دیاہے،امکان ہے اسرائیل بھی ایران کے پاور اسٹیشنز پر حملے روک سکتا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ دیر قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹروتھ سوشل پر پیغام جاری کیا گیا جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے 5 روز کیلئے موخر کیئے جارہے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے نہایت مثبت، نتیجہ خیز اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے۔‘
اُن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’اس تفصیلی اور تعمیری بات چیت کے انداز اور لہجے کی بنیاد پر جو اس ہفتے بھر جاری رہیں گی، میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر تمام فوجی حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے، جو جاری ملاقاتوں اور مذاکرات کی کامیابی سے مشروط ہے۔‘
ایران کی امریکہ سے مذاکرات کی تردید
ایران کی وزارت خارجہ نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہاہے کہ واشنگٹن کے ساتھ براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے،صدرٹرمپ علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے وقت بڑھارہے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ علاقائی ممالک نے کشیدگی کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات کیے،خطے میں جنگ ایران نے شروع نہیں کی،صدر ٹرمپ کا بیان توانائی کی قیمتیں کم کرنے کیلئے ہے۔
ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جنگ جاری ہے،یہ دشمن کی ایک اور شکست ہے، صدر ٹرمپ اور امریکا ایک بار پھر ناکام ہوگئے۔
تیل کی قیمتوں میں کمی
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے بجلی گھروں پر حملے 5 روز کیلئے موخر کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ ہوئی ہے ۔
امریکی کروڈ آئل کی قیمت میں 10فیصد کمی دیکھنے میں آئی جو کہ 88.34 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے جبکہ برطانوی کروڈ آئل میں بھی 10 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد فی بیرل قیمت 101.49 ڈالر پر آ گئی ہے ۔
برطانوی وزیراعظم
برطانوی وزیراعظم نے بھی ایران اورامریکہ کے درمیان مذاکرات کا خیر مقدم کیاہے، انہوں نے کہا کہ کسی بھی مفید مذاکرات کی رپورٹ خوش آئند ہے، ہم نے ہمیشہ کہا ہے جنگ کا جلد حل ضروری ہے، ہم چاہتے ہیں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جانا چاہیے۔
عمانی وزیر خارجہ
عمانی وزیرخارجہ بدرابوسعیدی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو محفوظ گزرگاہ بنانے کیلئے انتظامات کر رہے ہیں،مشرق وسطیٰ کا تنازع ایران کا پیدا کردہ نہیں ہے، اگر جنگ جاری رہی تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔





















