امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے قابل احترام اعلیٰ رہنما سے بات چیت کی،امید ہے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے،ایران افزودہ یوینیم میرے حوالے کردے اور کبھی دوبارہ اسے حاصل نہ کرے،میں نہیں چاہتا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنایا جائے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ مجھے نہیں معلوم مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں یا نہیں،ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے،اگر معاہدہ ہوا تو ہم خود افزودہ یورینیم آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں، اسرائیل سے بات ہوگئی وہ تازہ پیش رفت پر خوش ہے،اگر معاہدہ ہوا تو یہ ایران اور خطے کے لیے بہت شاندار ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتے،صرف مشرق وسطیٰ میں امن چاہتے ہیں،اگر ایران کے ساتھ ایٹمی ہتھیارہوتے وہ مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرلیتا،ایران کے ساتھ معاہدے کی ضمانت نہیں دے سکتے ،ایران اور امریکا مذاکرات میں کئی نکات پر راضی ہیں۔
ان کا کہناتھا کہ ایران کو اسے جہازوں سے بھرا تیل فروخت کرنے کی اجازت دی،ہمارے طیارے حملہ نہ کرتے ہوئے ایران ایٹم بم بناچکا ہوتا،میں خامنہ ای کے بیٹے کو رہنما نہیں مانتا،آبنائے ہرمز کا کنٹرول غالباً میرے اور ایران کے پاس ہوگا۔





















