مشیروزیراعظم راناثنااللہ کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی پالیسی میں سیاستدانوں سےبات چیت کرنا ہے ہی نہیں، پی ٹی آئی کسی سیاسی جماعت سے رابطہ نہیں کرنا چاہتی۔
سماء کے پروگرام "ندیم ملک لائیو" میں گفتگو کرتے ہوئے راناثنااللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جب تک جیل میں ہیں تحریک انصاف بات چیت نہیں کرے گی، بانی پی ٹی آئی ڈٹے ہوئے نہیں ہیں، بانی پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ سےمذاکرات چاہتےہیں،ڈیل بھی چاہتے ہیں۔
راناثنااللہ نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے وہ سیاسی جماعتوں سےبات نہیں کریں گے، بانی کی ملاقات ریاست کے خلاف بیانیے کیلئے استعمال نہیں ہوسکتی، تحریک انصاف مذاکرات کیلئےہم سےرابطہ کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا افغانستان پر قبضہ کرنے کا مقصدنہیں،کوئی علاقہ نہیں چھیننا چاہتے، جب تک افغانستان کوئی گارنٹی نہیں دیتا آپریشن جاری رہےگا، دوبارہ ٹھکانے بنائے جائیں گےتو انہیں بھی ختم کیاجائے گا۔
راناثنااللہ نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کو دہشتگردوں کے ٹریننگ کیمپس سے شواہد دیئےگئے، افغان طالبان رجیم نے شواہد سے انکار نہیں کیا، افغان طالبان رجیم نےٹی ٹی پی کےخلاف کارروائی سےمعذوری ظاہر کی، افغان طالبان ٹی ٹی پی کےخلاف پاکستان کی کارروائی پربھی آمادہ نہیں ہوئے، افغانستان کے جو ٹھکانے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث تھےانہیں ختم کیا گیا۔
راناثنااللہ کا کہنا تھا کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے ایران کو سب کچھ سچائی کے ساتھ بتایا، سعودی عرب کوبھی سچائی سےسب کچھ بتایاگیا، امریکا کے ساتھ کوئی ایسامعاملہ نہیں کیا گیا جس کاوہ گلہ کرسکیں، ہم ایسی پوزیشن میں ہیں کہ ایران کاہم پراعتماد ہے، سعودی عرب کو بھی ہم پر یقین ہے، امریکا کو بھی ہم سےکوئی گلہ نہیں۔






















