پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے رابطہ کیا تو اسے سستا تیل دیں گے، وہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاسکتا ہے۔ ایران کے ساتھ کئی دہائیوں سے فوجی اور تکنیکی تعاون ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا کہ ایران جنگ کے باعث صورتحال پیچیدہ ہو چکی،ہم پاکستان کو تیل فراہمی کیلئے تیار ہیں۔
البرٹ پی خوریف کا کہنا تھا کہ توانائی کا شعبہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعاون کا اہم ترین ستون ہے، تیل کی خریداری کیلئے پاکستان کی جانب سے روس کے ساتھ کسی رابطے کا علم نہیں۔
روسی سفیر نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں یورپی ممالک روس کے خلاف جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں، روس پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کیلئے نام نہاد سایہ دار فلیٹ کے تحت کارروائیاں شروع کی گئی ہیں، بین الاقوامی قانون میں سایہ دار فلیٹ کا کوئی تصور موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کھلے سمندر میں تجارتی جہازوں پر قبضہ کرنا سمندری ڈاکہ زنی ہے، ایسی پالیسیوں سے فوجی جھڑپوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں، یہ صورتحال تیل کی عالمی منڈی کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے۔ اس سے پاکستان سمیت دیگر ممالک پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
البرٹ پی خوریف نے مزید کہا کہ یوکرین کے ساتھ جاری تنارع کو دو ریاستوں کی براہ راست لڑائی نہیں سمجھتے، روس اس تنازع کو مغرب کے ساتھ بالواسطہ مقابلہ سمجھتا ہے، بیرونی دباؤ کے باجود پاکستان یوکرین بحران پر متوازن اور مستقل مؤقف اپنائے ہوئے ہے۔
روسی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ یوکرین تنازع نئے عالمی نظام کی تشکیل کے عمل میں طاقتور تقویت بن چکا، اس جنگ کا نتیجہ آئندہ کئی برسوں تک عالمی طاقتوں کے توازن پر گہرا اثر ڈالے گا، اس وقت پورے محاذ جنگ کی صورتحال روسی افواج کے حق میں بنتی جا رہی ہے، شکست سے دوچار یوکرینی جنگجو شہری آبادی پر حملوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ روس بحران کے حل کیلئے مذاکراتی حل تلاش کرنے کے راستے سے پیچھے نہیں ہٹا۔




















