ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ خطے کے ممالک ہم پر نہیں امریکا اور اسرائیل پر غصہ کریں۔ یہ جنگ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ہم پر مسلط کی گئی ہے۔
الجزیرہ کو انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ خطے میں اپنے تمام ہم منصبوں سے رابطے میں رہا ہوں اور انہیں اپنا مؤقف واضح کیا ہے، کچھ تو ناراض ہیں اور کچھ اس صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے کے ممالک جنگ روکنے کے لیے ہم پر دباؤ ڈالنے کے بجائے دوسری طرف پر دباؤ ڈالنا چاہیے، امید کرتا ہوں وہ یہ بات سمجھیں گے کہ خطے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہماری غلطی نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے دفاع کیلئے ہم سے جو ہوسکا کر لیں گے، ایران ہر وقت بات چیت اور مذاکرات کیلئے تیار ہے، امریکا کی طرح نہیں جس دے دوسری بار مذاکرات کے دوران حملہ کیا۔
عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ سپریم لیڈر کی شہادت کے باوجود سب کچھ معمول کے مطابق ہے، آئین میں طریقہ کار واضح ہے، ہم اس پر عمل کررہے ہیں، سپریم لیڈر کے انتخابات کیلئے ہم نے آئینی عمل شروع کردیا ہے، ایک یا دو دن میں ملک کے لیے نیا رہنما منتخب کر لیا جائے گا، عبور کونسل تشکیل دی گئی ہے جو معاملات کو سنبھالے گی۔






















