ایرانی سرکاری ذرائع اورسیاسی تجزیہ کاروں کےمطابق رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نےمستقبل میں قیادت کی منتقلی کی صورت میں ممکنہ جانشینوں کے چند ناموں پر مشاورت کی تھی،تاہم ایرانی حکام کی جانب سےاس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ایران کے آئین کے مطابق نئے سپریم لیڈر کا انتخاب 88 ارکان پر مشتمل مجلسِ خبرگانِ رہبری کرتی ہے، جو سینئر علماء پر مشتمل ایک منتخب ادارہ ہے۔
ذرائع کےمطابق جن شخصیات کے نام زیرِ غوربتائے جا رہے ہیں،ان میں سرفہرست یہ ہیں
مجتبیٰ خامنہ ای سپریم لیڈر کے صاحبزادے،جنہیں اسلامی انقلابی گارڈ کور کے بعض حلقوں میں اثر و رسوخ حاصل ہے، تاہم وہ کسی سرکاری سیاسی عہدے پر فائز نہیں۔
علیرضا اعرافی ایران کے دینی مدارس کے سربراہ اور قم کے جمعہ خطیب،جنہیں مذہبی حلقوں میں اہم مقام حاصل ہے۔
محمد مہدی میر باقری انتہائی سخت گیرنظریات کےحامل عالمِ دین، جو اسلامی انقلاب کے نظریاتی تسلسل کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
حسن خمینی بانیِ انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے نواسے، جنہیں نسبتاً اصلاح پسند سوچ کا حامل سمجھا جاتا ہے، وہ مزارِ خمینی کے متولی ہیں۔
غلام حسین محسنی ایجئی جو 2021 سے ایران کے چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور عدالتی و سیاسی نظام میں مضبوط اثر رکھتے ہیں۔
ایران میں رہبراعلیٰ کے انتخاب کا طریقہ کار
ایران میں رہبراعلیٰ کا عہدہ 1979 میں تخلیق کیا گیا،آیت اللہ خمینی 3دسمبر1979 کوپہلےرہبراعلیٰ مقررہوئے،آیت اللہ خمینی ساڑھے9 برس تک اس عہدے پرفائزرہے،1989کوآیت اللہ علی خامنہ کودوسرا رہبر اعلیٰ چنا گیا،آیت اللہ خامنہ ای نےساڑھے36 برس تک ذمہ داری نبھائی،نئےرہبرکےتقررتک3رکنی کونسل قائدانہ فرائض سنبھالتی ہے،کونسل میں صدر،چیف جسٹس اورایک فقیہ شامل ہوتا ہے۔
ایران دنیا میں اہل تشیع آبادی والا سب سے طاقتورملک ہے
سپریم لیڈرکا عہدہ صرف ایک آیت اللہ سنبھال سکتا ہے،ایران میں 88 علما کا ایک ادارہ جسےمجلسِ رہبری کہاجاتا ہے،ادارہ مجلس رہبری نئے رہبراعلیٰ کا انتخاب کرتا ہے، ہر 8سال بعدعوام مجلسِ رہبری کے اراکین کا انتخاب کرتےہیں۔
مجلس رہبری کےاراکین کاآخری انتخاب 2016 میں ہوا تھا
مجلس رہبری کوشوریٰ نگہبان کی منظوری درکار ہوتی ہے،شوریٰ نگہبان کے اراکین کا انتخاب رہبراعلیٰ کرتا ہے،سپریم لیڈرکاشوریٰ نگہبان اور مجلسِ رہبری پر اثرو رسوخ ہوتا ہے۔
خامنہ ای نےاپنی مدت میں قدامت پسند اکثریت کویقینی بنایا
نئےرہنما کےلیے59 میں سے40 ووٹ درکار ہوتے ہیں،نئےرہبرکے انتخاب کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے، رہبراعلیٰ کا منصب عوامی اور سیاسی تحریکوں کا محور رہا۔
رہبراعلیٰ کوانقلاب اسلامی کی علامت سمجھا جاتا ہے
رہبراعلیٰ شوریٰ نگہبان اورچیف جسٹس کاتقرر کرتا ہے،حکومت کے پورے نظام کی نگرانی بھی کرتا ہے،ریفرنڈم کرانےکا اختیار بھی رہبراعلیٰ کے پاس ہوتا ہے،پاسدارانِ انقلاب اور افواج کے سربراہوں کا اعلان کرتا ہے،وہ ہی اعلان جنگ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
رہبر کے پاس صدرکو برطرف کرنے کا اختیار بھی ہے،اپنے اختیارات کسی اور کو بھی تفویض کرسکتا ہے
نئے رہبرکےانتخاب میں پاسداران انقلاب کا کردار اہم ہوگا۔






















