امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور ایرانی جوابی میزائل حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں فضائی آمدورفت مکمل طور پر درہم برہم ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کردیں جبکہ دنیا کی بڑی ایئر لائنز نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر پروازیں معطل یا راستے تبدیل کردیے۔
قطر نے بحری اور فضائی ٹریفک دونوں معطل کردی جبکہ متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود کو جزوی اور عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا۔
ابوظہبی کے آسمان پر میزائل تباہ کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اسرائیل، ایران، عراق اور اردن نے بھی اپنی فضائی حدود بند کردیں اور فلائٹ ٹریکنگ نقشوں پر خطے کا فضائی راستہ تقریباً خالی نظر آیا۔
لوفتھانزا، ایئر فرانس، کے ایل ایم، ایمریٹس، برٹش ایئرویز، ایئر عربیہ، ویز ایئر اور ترکش ایئر لائنز سمیت درجنوں عالمی ایئر لائنز نے اسرائیل، ایران، دبئی، ابوظہبی اور عمان کی پروازیں منسوخ کردیں۔ ایک برٹش ایئرویز پرواز جو لندن سے دوحہ جارہی تھی اسے درمیان سفر سے واپس بلا لیا گیا۔
مشرق وسطیٰ یورپ اور ایشیا کے درمیان فضائی راستے کا اہم گزرگاہ ہے اور اس بحران نے عالمی فضائی صنعت پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔ تاہم اسرائیل کے اردن اور مصر کے ساتھ زمینی سرحدی راستے کھلے ہیں۔
دوسری جانب ایران جنگ کےباعث خلیجی ممالک کیجانب سےپاکستان کیلئےفضائی آپریشن غیرمعینہ مدت کیلئےمعطل کر دیا گیاہے، ترجمان سیالکوٹ ایئرپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک کیلئے فضائی آپریشن بحال ہوتے ہی تمام پروازوں کا نیا شیڈول جاری کردیا جائےگا، فضائی آپریشن کی عارضی بندش بارے متععد خلیجی ممالک نے نوٹم جاری کردیا۔ ترجمان کا کہناتھا کہ تمام مسافر اپنی بین الاقوامی پرواز بارے تمام تفصیلات اپنی ایئرلائن سے حاصل کریں، خلیجی ممالک سے سیالکوٹ آنے اور واپس جانے والے مسافر اپنی ائرلائن سے تفصیلات حاصل کریں۔






















