ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبیداللہ خان نے کہاہے کہ پاکستان میں ایک دو اور پانچ ایم ایل سرنجز آٹو ڈسپوزایبل ہیں تاہم 10 سی سی سرنج تاحال آٹو ڈسپوز ایبل نہیں ہے ۔
سما کے نمائندہ خصوصی ٹکا خان ثانی کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر عبیداللہ نے بتایا کہ اگر وزارت صحت نے اس پر بھی پابندی لگائی تو فوری عمل کرائیں گے، سرنجز کے حوالے سے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی، ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ ملک میں ایچ آئی وی کا مرض سرنجز سے پھیلا تاہم پاکستان سب سے زیادہ انجیکشن لگانے والے ممالک میں شامل ہے، پاکستان میں ہر سال ڈیڑھ سے 2 ارب سرینجز استعمال ہوتی ہیں۔





















