وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ ملک میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، ون کانسٹیٹوشن ایونیو کو لیز پر لینے والی کمپنی نے قوانین توڑے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران طلال چوہدری نے کہا کہ 3 بڑی کمپنیوں نے ون کانسٹیٹوشن ایونیو کی جگہ ہوٹل بنانے کیلئے لیز پر لی۔ پلاٹ کی بنیاد پر بینک آف پنجاب سے قرض لیا گیا۔ بینک کی اقساط نہ دینے پر گروپ ڈیفالٹ ہوگیا۔ ریڈ زون میں 70 ہزار روپے اسکوائر فٹ لیز پر لیا گیا۔ 2019 میں متنازع فیصلہ سنایا گیا جو آج تک متنازع ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ 2016 میں لیز معاہدہ کینسل کرکے سی ڈی اے نے ون کانسٹیٹوشن ایونیو کا کنٹرول لے لیا، حکومت تجاوزات کیخلاف بلا تفریق کام کررہی ہے، 20 سال میں ریاست اپنی رٹ قائم نہیں کرپائی تھی، امیر ہو یا غریب سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہوگا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے شاہراہ دستور پر موجود ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ خالی کرانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ رات گئے پولیس کے ذریعے عمارت کو خالی کرانے کے احکامات دیے گئے۔ سی ڈی اے نے2005 میں 13 ایکٹر پر مشتمل زمین لگژری ہوٹل کیلئے99 سالہ لیز پر ایک کمپنی کو دی تھی۔
ذرائع کے مطابق ون کانسٹیٹیوشن ایونیو عمارت میں اہم سیاسی شخصیات، بیوروکریٹس کےفلیٹس بھی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلڈنگ کی لیز منسوخی کے سی ڈی اے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے لیز منسوخی کے خلاف درخواستیں خارج کر دی تھیں۔





















