بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ بانی کی صحت کےحوالےسےفیصلہ کرنا پارٹی کا نہیں ہمارا مینڈیٹ ہے، آئندہ بانی کی صحت سے متعلق کوئی بھی فیصلہ ہماری اجازت کے بغیر نہیں ہوگا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے کہا کہ پارٹی کو حق نہیں کہ وہ بانی کی صحت پر ہماری اجازت کے بغیر کوئی بات کرے، یہ پارٹی کے اندر مداخلت نہیں، ہمارے بھائی کی صحت کا سوال ہے، بانی کی صحت اورکیسزہمارامسئلہ ہے،محسن نقوی نے کہا پارٹی ہمارے ساتھ ہے۔
علیمہ خان نے کہا کہ جب ہمارے ڈاکٹرز نے الشفا کا مشورہ دیا تو پارٹی کیسے کوئی فیصلہ کر سکتی ہے؟ ہمیں بے خبر رکھا گیا کہ جیل میں علاج کیاجارہا ہے، کوئی آکرتردید کیوں نہیں کرتا کہ کون سا علاج ہوا ہے؟ کوئی پارٹی والا آکر کیوں نہیں بتاتا کہ محسن نقوی نے کیا یقین دہانی کرائی تھی؟۔ ہمیں بتا دیں کہ محسن نقوی سے معلومات ملا کریں گی یا پارٹی سے؟۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی سےمعلوم ہوا بیرسٹر گوہر بھی جیل جارہے تھے،بیرسٹر گوہر نے نہیں بتایا، پارٹی بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے لڑے، پارٹی نےصحت سے متعلق جو فیصلہ کیا وہ ہم سے چُھپایا گیا، پارٹی کوروکا کہ ہماری مشاورت یا اجازت کے بغیر صحت پر کچھ نہ کریں۔
علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ محسن نقوی نے کہا کہ علاج میں رکاوٹ تھی،کسی نے اس کی وضاحت نہیں کی، بیرسٹر گوہر صحت کی اتنی فکر رہے تھے،سب معاملات دیکھ رہے تھے،وہ کہاں ہیں؟ سئینر وکلاء اور ٹکٹ ہولڈر کہاں ہیں؟حامد خان، علی ظفر، لطیف کھوسہ کہاں ہیں؟۔






















