امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران کا مسئلہ سفارتکاری کے ذریعے حل کرنا میری ترجیح ہے،تہران کو ایٹمی طاقت بننے سےہر حال میں روکوں گا،میں کبھی بھی دہشتگردی کےسرپرست کو ایٹمی ہتھیاررکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا،لیکن ہم نےان سےکبھی جوہری ہتھیار نہ رکھنے کی بات نہیں سنی،ایرانی کسی سودے بازی کی خواہش رکھتے ہیں،ایران ایسے میزائل بنانےپرکام کررہاہےجوجلد امریکہ تک پہنچ جائیں گے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیٹ آف یونین سےخطاب کرتےہوئےکہا اقتدار میں واپسی کے بعد آٹھ جنگیں ختم کی ہیں،غزہ میں اسرائیل اورحماس کےدرمیان جنگ بندی ایک کامیابی ہے،غزہ کی جنگ بہت کم سطح پرجاری ہےتقریباً ختم ہو چکی ہے،معاہدے کےتحت تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہاکردیاگیا، اسرائیلی افواج نےجنگ بندی کےبعد 600 سےزائد فلسطینیوں کوہلاک کیا،اسرائیل نےانسانی امداد تک رسائی کو بھی سخت محدود رکھا،یہ امداد معاہدے کےتحت بڑی مقدار میں غزہ پہنچنی تھی۔
امریکی صدر نےسپریم کورٹ کے عالمی ٹیرف کوغیرقانونی قرار دینے کےفیصلےکو بدقسمتی قرار دیا، کہا کانگریس سے مشاورت کے بغیر بھی دیگر قوانین کے تحت ٹیرف برقرار رکھے جائیں گے،ٹیرف نے دہائیوں سے جاری غیرمتوازن تجارتی تعلقات کو درست کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نےکہا کہ ڈیموکریٹس فنڈنگ روک کر امیگریشن نفاذ سے متعلق سخت پالیسیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں،حکومت کا پہلا فرض غیرقانونی تارکین وطن نہیں بلکہ امریکی شہریوں کا تحفظ ہے۔ اس موقع پر ریپبلکن ارکان صدر کی اپیل پر کھڑے ہوئے جبکہ ڈیموکریٹس نشستوں پر بیٹھے رہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا ہے کہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز تعمیر کرنے والی بڑی ٹیک کمپنیاں اپنی بجلی خود پیدا کریں،کیونکہ ٹیک سیکٹر کو اپنی توانائی ضروریات کی ذمہ داری لینا ہوگی،حکومت نے ٹیکنالوجی کمپنیوں سے معاہدے کیے ہیں تاکہ یوٹیلٹی بلز کم رہیں۔
امیگریشن پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے منی سوٹا میں جرائم کے واقعات کا حوالہ دیا اور کہا کہ غیر محدود امیگریشن کے ذریعےبعض مسائل درآمد ہوئے،جن کی قیمت امریکی عوام میڈیکل بلز، انشورنس، کرایوں، ٹیکسوں اور جرائم کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔
معاشی پالیسی پرصدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ڈیموکریٹس کی پالیسیاں مہنگائی کا باعث بنیں جبکہ موجودہ حکمتِ عملی سے مہنگائی تیزی سے کم ہو رہی ہے اور آمدن میں اضافہ جاری ہے، امریکی معیشت پہلے سے کہیں زیادہ ترقی کر رہی ہے، فوج اور پولیس مضبوط ہیں اور ملک بھر میں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے۔
امریکی صدر نےمزید کہا امریکہ کو وینزویلا سے 80 ملین بیرل سے زائد تیل موصول ہوا ہے،وائٹ ہاؤس میں واپسی پرایک خراب صورتحال ورثےمیں ملی،مگر اقتدار کے پہلے ہی سال میں ملک نے ایسی تاریخی تبدیلی دیکھی جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔





















