اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے 11 سہولت کار اور دہشت گردوں کو دھر لیا گیا جن میں خودکش حملے کا افغان ماسٹر مائنڈ بھی شامل ہے۔ خودکش حملے کے افغان ماسٹر مائنڈ کا تعلق داعش سے ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دو افغان باشندوں سمیت 6 سہولت کار نوشہرہ سے گرفتار کرلیے گئے ۔ حملہ آور کی والدہ سمیت 3 افراد کو راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا جبکہ فون پر معلومات دینے والا ایک سہولت کار کراچی سے پکڑا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق داعش نے حملے کی منصوبہ بندی،تربیت اور ذہن سازی کی۔ افغان طالبان کی سرپرستی میں داعش اوردیگردہشت گردتنظیمیں امن کیلئے بڑا خطرہ ہے۔
آپریشنز ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جنس کے نتیجے میں کیے گئے، نوشہرہ میں آپریشن کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا، آپریشن کے دوران ایک بہادر سپوت شہید،3زخمی ہوئے، دہشت گردوں کے خلاف مزید انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق حملہ آور دھماکے کے روز ہی نوشہرہ سے اسلام آباد پہنچا، دہشت گرد نے راولپنڈی سے کھنہ کا روٹ استعمال کیا، سہولت کار افغانستان میں فتنہ الخوارج سے رابطے میں تھے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ خودکش حملہ آور7 مرتبہ افغانستان کے دورے کرچکا تھا، حملہ آور نے سینے کے علاوہ ٹانگوں پر بھی بارودی مواد باندھ رکھا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 33 افراد شہید اور 160 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں داخلے سے روکنے پر حملہ آور نے خود کو گیٹ پر اڑا لیا تھا۔






















