وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے دہشتگردوں کے ساتھ مقابلے میں 17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 145 دہشتگردوں کی لاشیں ہمارے پاس موجود ہیں،رپورٹس ہیں دہشتگردوں کیساتھ افغان شہری بھی شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نےپریس کانفرنس کر تےہوئےکہا ہےکہ حکومت کے پاس پہلے سے انٹیلی جنس رپورٹس موجود تھیں،جس کے باعث حملوں سےایک دن قبل ہی آپریشن شروع کردیاگیا تھا، 40 گھنٹوں کے دوران 145 دہشت گردہلاک کیےگئےہمارے پاس 145دہشتگردوں کی لاشیں موجود ہیں،حملوں میں 31 شہری شہید اورکچھ زخمی بھی ہوئے،پورے سال کے دوران مختلف کارروائیوں میں 1500 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نےکہا ایک دن پہلےشعبان اورپنجگور میں 40 دہشتگرد مارےگئےتھے،اس وجہ سےکوئٹہ کےشمال مشرق کی جانب سے حملہ نہیں ہوا، پنجگور میں بھی ایک دن پہلے آپریشن کی وجہ سے حملہ نہیں ہوا، سیکیورٹی فورسز چوکس تھیں اس لیے اتنا بڑا حملہ ناکام بنایا،آپریشن کے لیے بلوچستان کا کوئی گاؤں خالی نہیں کرایا گیا جبکہ فرار دہشت گردوں کے تعاقب کے لیے آپریشن جاری ہے۔
سرفراز بگٹی کاکہنا تھاکہ دہشت گردبندوق کے زور پراپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں،مگر ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے اورضرورت پڑی تو ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے،ہندوستان کی ایما پر بلوچستان کے لوگوں کو ایندھن بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیاکہ دہشت گرد ہم سے دھرتی کا ایک انچ بھی نہیں لے سکتے،بلوچستان ضرور امن کی طرف لوٹے گا۔





















