سعودی عرب میں عرب اور اسلامی ممالک کے مشاورتی اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں خطے پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔
سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشاورتی اجلاس میں شرکاء نے ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایران خلیجی ممالک کے سول انفرا اسٹرکچر سمیت ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات، سفارت خانوں اور عوامی جگہوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور یہ حملے کسی صورت جائز نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے مطابق خلیجی ریاستوں کو دفاع کا حق حاصل ہے اجلاس ایران کو فوری طور پر حملے روکنے بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنے سمیت ہمسایہ ممالک کا احترام کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
ایران ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحیت روکنے سمیت خطے کے امن اور استحکام کو یقینی بنائے اور ابنائے ہرمز کو محفوظ بنائے اور عالمی تجارت میں خلل پیدا نا کرے ایران ہمسایہ ممالک میں پراکسی وار کو مت پھیلائے اور مسلح ملیشیا کی حمایت چھوڑ دے
واضح رہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا جس میں شرکاء نے خطے کی موجودہ صورتحال اور اسکے تناظر میں بڑھنے والی کشیدگی اور مسائل پر گفتگو کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ سنگین حالات کے فوری حل کے لیے کوششوں کو تیز بنایا جائے۔
عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسحاق ڈار اجلاس میں خطے کے تمام برادر ممالک کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سیاسی آزادی کی مکمل حمایت کا اظہار کیا اور ان کی سرزمین پر تمام حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا۔





















