حکومت نے بجلی ٹیرف میں کمی کے اقدامات سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا، پاور ڈویژن کے اقدامات سے صنعتی کراس سبسڈی میں 123 ارب روپے کی کمی کی گئی جس کے بعد صنعتی صارفین پر بوجھ 225 ارب سے کم ہو کر 102 ارب روپے رہ گیا۔
صنعتی بجلی کا ٹیرف 63 روپے سے کم ہو کر 46 روپے 31 پیسے فی یونٹ ہو گیا، جبکہ اوسط بجلی ٹیرف 53 روپے چار پیسے سے کم ہو کر 42 روپے ستائیس پیسے فی یونٹ پر آگیا۔ ترجمان کے مطابق مہنگے اور غیر مؤثر پاور پلانٹس بند کیے گئے، آئی پی پیز کے معاہدے دوبارہ طے پائے، اور حکومت کی کوششوں سے بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی ممکن ہوئی۔
صنعتی و زرعی صارفین کے لیے اضافی بجلی پیکج 22 روپے 98 پیسے فی یونٹ پر لایا گیا ہے، جو سرپلس پاور پیکج کے تحت اگلے 3 سال کے لیے دستیاب رہے گا اور صنعتی لاگت کم کرنے میں مددگار ہوگا۔
سرکلر ڈیٹ ختم کرنے کا منصوبہ بھی جاری ہے، جس کے تحت پانچ سے چھ سال میں مکمل ادائیگی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اور سرکلر ڈیٹ ختم ہونے پرتین روپے تئیس پیسے فی یونٹ سرچارج ختم ہوجائےگا۔
ذرائع نے بتایا کہ آف گرڈ سولر صارفین کی سبسڈی سے نظام متاثر ہوا ہے، تاہم محفوظ صارفین کی تعداد دوگنی ہو گئی، جبکہ ہائبرڈ استعمال سے مالی دباؤ اور صنعتی کراس سبسڈی میں اضافہ ہوا۔



















