وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا پاکستان کو 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے لیے آبادی پرقابو پانا ہوگا،کیونکہ 2.55 فیصد سالانہ آبادی کے اضافے کے ساتھ پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سےخطاب میں کہا اگرچہ تجارتی خسارہ بڑھا ہے،تاہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مقررہ ہدف کے اندر ہے،موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑی صنعتوں کی کارکردگی مثبت رہی جبکہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بڑھ کر 1.1 ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہے،گزشتہ مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تھیں جبکہ رواں سال یہ 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی،حکومت چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈ جاری کرنے جا رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نےکہاکہ چارسال قبل پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کے برابر تھے،جس کے باعث دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا،تاہم اب سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے،ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئےانہوں نے بتایا کہ 73 فیصد سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے حق میں ہیں، جو اس سے قبل 61 فیصد تھے۔
وزیر خزانہ نےکہا کہ ٹیکسوں اوربجلی کی لاگت میں کمی کے لیے نئے بزنس ماڈلز پرغور کرنا ہوگا۔ شرح سود میں کمی سے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کی ضرورت ختم ہو جائے گی،تاہم قرضوں پر سود کی ادائیگی بدستور حکومت کا سب سے بڑا خرچ ہے،انہوں نے بتایا کہ بہتری کے لیےڈیبٹ مینجمنٹ آفس قائم کیا گیا جس کے باعث گزشتہ سال قرضوں پر سود کی مد میں 850 ارب روپے کی بچت ہوئی، جبکہ رواں سال بھی اتنی ہی بچت متوقع ہے۔
وزیرخزانہ کےمطابق ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور ایف بی آر کی ٹرانسفارمیشن کا عمل جاری ہے۔ ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کے لیے کمپلائنس اور انفورسمنٹ کو مضبوط بنایا جا رہا ہے،انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکس پالیسی اب وزارت خزانہ کے پاس ہے جبکہ ایف بی آر کا بنیادی کام ٹیکس محصولات کی وصولی ہے۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے بھی شرکت کی، جبکہ 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے تھے، اسی وجہ سے یوٹیلٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کر دیا گیا، جہاں سبسڈی میں کرپشن ہو رہی تھی۔
وفاقی وزیرخزانہ نےکہا کہ ڈیوٹیز میں مسلسل اضافہ معیشت کے لیےنقصان دہ ہے،اس لیے ڈیوٹیز کو معقول اورکاروباری لاگت کو کم کرنا ہوگا،پاکستان کےپاس دنیا کی تیسری بڑی فری لانسر فورس موجود ہے،حکومت کاکام نوجوانوں کو مؤثر سسٹمز اورڈیجیٹل پلیٹ فارمز فراہم کرنا ہےتاکہ وہ ملکی معیشت میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔






















