حکومت نے خام اور تیار چینی کی قیمتوں میں فرق کا فائدہ اٹھانے کیلئے ویلیو ایڈڈ چینی کی برآمدات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا۔
پاکستان عالمی سطح پر چینی پیدا کرنے والا ساتواں بڑا ملک ہے،لیکن چینی کی برآمدات نہایت محدود اور غیرمستقل ہیں،وزارت صنعت و پیداوار کےمطابق عالمی چینی کی پیداوار میں پاکستان کا حصہ صرف 6 فیصد ہے،ایکسپورٹ بڑھانےکیلئےخام اورفائن چینی میں فرق بطورویلیو ایڈیشن استعمال کرنےکا فیصلہ کرلیاگیا،نئی پالیسی کے تحت شوگرملزکواختیاردیاجائےگا کہ وہ خام چینی منگوا کرریفائن کرنے کے بعد ری ایکسپورٹ کرسکیں۔
سرکاری دستاویز کےمطابق پاکستان کا چینی میں زیادہ انحصارمقامی گنےکی پیداوار پرہے،چینی کی پیداوار20-2019 میں 4.8 ملین میٹرک ٹن اور22-2021 میں 7.8 ملین میٹرک ٹن رہی،جبکہ چقندر سے چینی کی پیداوار محض 1.16 فیصد ہے۔
اس کےعلاوہ کرشنگ سیزن صرف100 روز ہونے کےباعث نہ صرف 60 فیصد صنعتی ضروریات پوری ہو پاتی ہیں،بلکہ ملکی شوگرملز کی 40 فیصد پیداواری صلاحیت ضائع بھی ہو رہی ہے۔
وزارت صنعت و پیداوار کےمطابق خام اور ریفائنڈ چینی کی قیمتوں میں فرق ویلیو ایڈیشن کا بڑا موقع فراہم کرتا ہے،2015 سے 2025 کےدوران پاکستان نے 31 کروڑ 40 لاکھ ڈالرکی خام چینی درآمدکی جبکہ ریفائنڈ چینی کےبرآمدی حجم کی مالیت 1 ارب 60 کروڑ70 لاکھ ڈالر رہی،
عالمی منڈی میں 2023میں خام چینی570 ڈالر اورریفائنڈ چینی660 ڈالرفی ٹن تھی،2024 میں قیمت کا فرق 54 ڈالر فی ٹن رہا، جبکہ قیمت میں اوسطاً سالانہ فرق 73 ڈالر فی ٹن ہے۔





















