ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری پُرتشدد احتجاج میں مزید شدت آگئی جہاں تازہ احتجاج کے دوران مظاہرین کی فائرنگ سے دو سکیورٹی اہلکار جاں بحق 30 زخمی ہو گئے۔
ہلاکتیں صوبے چہار محل اور بختیاری میں ہوئیں ۔ مظاہرین نے گورنر کے دفتر اور کئی دیگر سرکاری اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا ۔ 11 دنوں میں پرتشدد مظاہروں میں مرنے والوں کی تعداد 42 ہوگئی ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز 31 صوبوں میں سو سے زائد مقامات پر احتجاج کیا گیا۔ مشتعل مظاہرین نے شازند میں گورنر ہاؤس اور یزد میں پولیس اسٹیشن کو نذر آتش کردیا۔ تہران میں بھی متعدد عمارتوں کو آگ لگائی گئی۔
ایرانی حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی۔ 13 روز سے جاری مظاہروں میں 34 مظاہرین اور 8 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوچکے۔
مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جبکہ بعض مظاہرین نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی، لردگان شہر میں مظاہرین نے گورنر کے دفتر اور دیگر سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔ سرحدی صوبے شمالی خراسان کے شہر بجنورد میں ایک دکان کو آگ لگا دی گئی۔
مشہد میں ایرانی حکومت کے حق میں ہزاروں کی تعداد میں شہری سڑکوں پر آئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے۔ ایران نے مظاہرین کو قتل کرنا بند نہ کیا تو بہت سخت جواب دیں گے ۔۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا ایرانی عوام آزادی کے لیے کھڑے ہیں۔ ان کے ملک میں جو بھی ہورہا ہے وہ افسوسناک ہے۔




















