ترجمان دفترخارجہ طاہرحسین اندرابی نےکہا پاکستان نےافغانستان کےساتھ سہہ فریقی میکنزم جاری رکھنے پراتفاق کیا ہے،افغانستان کےبیانات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
ترجمان دفترخارجہ طاہرحسین اندرابی نےہفتہ وارنیوز بریفنگ میں کہا افغان سرزمین کےدیگرممالک کیخلاف استعمال نہ ہونےسےمتعلق قابل تصدیق، ٹھوس،عملی ضمانتوں کے منتظرہیں،پاکستان، بنگلا دیش اور چین میکنزم کے تحت گزشتہ برس اجلاس ہوا تھا،ہم اس میکنزم کو آگے بڑھانے کے خواہشمند ہیں،ہم نے گزشتہ سال ایران کے خلاف 12 روزہ جارحیت کی مخالفت کی تھی،ایران کی گھریلو صورتحال ایران کا اندرونی معاملہ ہے،ہم ایران کے اندرونی معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے۔
ترجمان دفترخارجہ نے بھارتی وزیرخارجہ امور کےبےبنیاد بیان کو مسترد کرتے ہوئےکہابھارت کے پاکستان پر الزامات اس کے امن دشمن اقدامات کو نہیں چھپا سکتے،یہ بھارت کا ریکارڈ ہےکہ وہ خطے اور عالمی سطح پردہشتگردی کی پشت پناہی کر رہا ہے،بھارت کو دوسروں کو وعظ کرنےکی بجائےاپنے آپ کوبدلنا چاہیے،نئی دلی میں فیض الہیٰ مسجداورملحقہ جائیدادوں کا انہدام مسلم کش اقدامات کی مہم کا حصہ ہے،یہ 1992میں بابری مسجد کے انہدام اور بعد ازاں مندر کی تعمیر کا تسلسل ہے،یہ اقلیتوں کے خلاف بھارتی نفرت انگیز ہندوتواء مہم کا حصہ ہے۔
انہوں نےکہاگزشتہ ہفتےنائب وزیراعظم نےچین کادورہ کیا اورپاک چین اسٹریٹیجک مذاکرات کیے،مذاکرات کےبعد فریقین نےایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا،پاکستان چین کی قومی وحدت کےحصول کےاقدامات کی حمایت کرتا ہے،مذاکرات میں پاکستان نےچین کو جموں و کشمیرکےمسلئےسےآگاہ کیا۔
مزیدکہاچین نےمسئلہ کشمیرکوتاریخ کا ایک حل طلب مسئلہ قرار دیتے ہوئے حل پر زور دیا،اسحاق ڈار نے6 جنوری کو میانمار کےوزیر خارجہ سےرابطہ کیا،انڈونیشیا اور مصر کےوزرائےخارجہ اوربنگلہ دیشی مشیرخارجہ سےبھی رابطےکیے،اسحاق ڈارنےترکیہ اوراماراتی وزرائےخارجہ سےبھی علاقائی و بین الاقوامی امور پر بات چیت کی۔






















