نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے ملک میں سیاسی کارکنوں کیخلاف مقدمات ختم کرنے اور مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی کی قیادت سے مذاکراتی کمیٹیاں بنانے کا مطالبہ کردیا۔
اسلام آباد میں فواد چوہدری،عمران اسماعیل،محمد علی درانی اور محمود مولوی کی نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی پہلی بیٹھک میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے شرکت نہیں کی۔ جماعت اسلامی،ایم کیو ایم اور پاکستان عوام پارٹی کے رہنما شریک ہوئے۔
جاری اعلامیے میں ن لیگ،پی پی پی اور پی ٹی آئی قیادت سے مذاکراتی کمیٹیاں بنانےاور فوری سیاسی مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سیاسی مقدمات ختم کرنے اور خواتین اسیران کی رہائی کی مانگ بھی کر دی گئی۔ اعلامیےمیں پاک فوج سمیت تمام سیکیورٹی فورسزکی قربانیوں کوسلام بھی پیش کیاگیا ہے۔
سربراہ عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی نےملک چلانے کیلئےمذاکرات ناگزیر قراردیئے۔ کہا 25 کروڑ کا ملک ہے،ہم اس کو نہیں چلا پارہے ہیں۔ فواد چوہدری مجھے کوٹ لکھپت لے کر جانا چاہتے ہیں لیکن مسائل کا حل کوٹ لکھپت یا اڈیالہ میں نہیں ہے ۔ اس طرح سامنے بیٹھنا پڑے گا،سیاستدانوان کو بھی فوج کو بھی عدلیہ کو بھی،اس ملک کے کاروباری طبقے کو بھی بٹھائیں، یہ جو ہم پالیسی نہیں دے سکے کم از کم وہ نشان دہی تو کرسکتے ہیں۔
اعلامیے میں مسلح افواج، پولیس اور رینجرز کے شہدا کو خران عقیدت، میڈیا پا پابندیاں ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے اگلی کانفرنس ملتان میں بلانے کا اعلان بھی کردیا گیا۔



















