ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان گروہ نے افغانستان پر قبضہ کیا ہوا ہے، افغانستان سے دہشتگردی دیگر ملکوں میں کیوں نہیں ہورہی؟ خیبرپختونخوا کو دہشتگردوں کے حوالے نہیں کرنے دیں گے، کہتے ہیں خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کیخلاف آپریشن نہیں کرنے دیں گے، پاکستان کی سلامتی کی حفاظت پاک فوج کافرض ہے۔
انہوں نے کہا کہ کابل سے سیکیورٹی گارنٹی کی بھیک مانگی گئی، معدنیات کے 5 ہزار سے زائد لائسنس کس نے جاری کیے؟ اسمبلی میں بیٹھ کر جھوٹا بیانیہ بنایا جاتا ہے،ڈالر تو انہیں ملتے ہیں، خیبرپختونخوا میں غیرقانونی کان کنی ہو رہی ہے، خیبرپختونخوا میں امن کے بعدہی ترقی ہو گی، فتنہ الخوارج کبھی ان پر حملہ کیوں نہیں کیا؟ تمام پارٹیوں پر حملہ ہوا ہے، یہ فتنہ الخوارج کے منظور نظر بننا چاہتے ہیں، وادی تیراہ میں آپریشن کی مخالفت کی جاتی ہے، صوبائی حکومتوں نےنیشنل ایکشن پلان کےتحت اپنا کردار ادا کرناہے۔
ان کا کہناتھا کہ دہشتگردوں کی کوئی آئیڈیالوجی نہیں ہوتی، سب دہشتگردوں کا ایک ہی باپ ہے اور وہ افغان طالبان ہے، افغان طالبان کو کئی ایجنسیاں استعمال کرتی ہیں، دہشتگردی کیخلاف جنگ متحد ہو کر لڑنی ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ مشکل جنگ ہے، دہشتگردی کیخلاف پاکستان جیسی جنگ دنیامیں کسی نے نہیں لڑی۔
احمد شریف چوہدری کا کہناتھا کہ تمام پارٹیوں پر حملہ ہوا ہے، یہ فتنہ الخوارج کے منظور نظر بننا چاہتے ہیں، ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا دہشتگردوں کی بیت کرلیں؟، وادی تیرہ میں آپریشن کی مخالفت کی جاتی ہے، صوبائی حکومتوں نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت اپنا کردار ادا کرنا ہے، نیشنل ایکشن پلان کے تحت طے ہوا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کو نکالا جائےگا،
انہوں نے کہا کہ دنیا کہہ رہی ہے افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ ہر طریقے سے لڑیں گے مغلوب نہیں ہوں گے، ہر کونے تک دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں تک جائیں گے، دہشتگردوں کے تربیتی مرکز افغانستان میں ہیں، خیبرپختونخوا میں آپریشن تو ہورہےہیں، سیکیورٹی پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوسکتا، جو کہتے ہیں آپریشن نہیں ہونے دیں گے کیا وہ ملکی سالمیت سے بڑھ کر ہیں؟، کسی کی سیاست پاکستان سے بڑھ کر نہیں، اختیارات مکمل لیے جاتے ہیں لیکن ذمہ داری مکمل نہیں لیتے۔
ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں برابر ہیں جب وہ پاکستانی ہیں، ایک لیڈر اپنی پارٹی کو ڈکٹیٹر کے طور پر چلاتا ہے، وہ کہتا تھا بات چیت کرو بات چیت کرو، اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی کدھر ہیں ، ان کو سیاست کیلئے استعمال کیا گیا، قوم کا ایک ہی باپ ہے قائد اعظم ، یہ نیا باپ لےلیکر آگئے تھے، یہ جس چیز کے پیچھے پڑھ جاتا ہے تو پڑھ جاتا ہے۔






















