پاکستان اور چین نے دہشت گردی کیخلاف تعاون مزید مضبوط اور سی پیک بلارکاوٹ آگے بڑھانے پر اتفاق کرلیا۔ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے جامع اقدامات اور چینی باشندوں اور منصوبوں کے تحفظ پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ۔ گوادر پورٹ ، قراقرم ہائی وے ، پائیدار ترقی ، ٹیکنالوجی ، سائنس ، سائبر سیکیورٹی میں تعاون بڑھانے پر زور ۔ چین نے پاکستان کی خودمختاری ، آزادی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کا عزم دہرایا ۔ دفاع ، معیشت ، تجارت میں دوطرفہ تعاون، سرمایہ کاری اور ثقافتی روابط بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون کے مختلف شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسٹریٹجک و سیاسی تعاون، دفاع،معیشت،تجارت، سرمایہ کاری، ثقافتی روابط پر بھی بات ہوئی۔ فریقین نے اسٹریٹجک روابط مزید مضبوط بنانے اور باہمی اعتماد کے فروغ پراتفاق کرلیا۔
مشترکہ مفادات کے تحفظ ، سماجی و اقتصادی ترقی اور دنیا میں امن و خوشحالی کے فروغ کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ دونوں ممالک نے رواں سال سفارتی تعلقات کی پچھترویں سالگرہ کی تقریبات کے آغاز کا اعلان بھی کیا ۔ تقریبات کا مقصد پاک چین دوستی کو مزید مستحکم اور تعاون کے نئے شعبوں کو فروغ دینا ہے۔
فریقین کا کہنا تھا چین پاکستان آہنی دوست اور باہمی اعتماد پر مبنی ہر دورکے اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرز ہیں ۔ مضبوط تعلقات علاقائی امن ، استحکام اور ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
دونوں ممالک نے اعلیٰ سطح کے روابط کو دوطرفہ تعلقات کی نمایاں خصوصیت قرار دیا ۔ پانچ سال کے ایکشن پلان اور مشترکہ مستقبل کی پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کو ترجیح دینے پر اتفاق کیا گیا ۔ دونوں ممالک نے سرحد پار آبی وسائل میں تعاون اور عالمی قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری پر آمادگی کا اظہار کیا۔
چین ، افغانستان ، پاکستان مکالمے اور چین بنگلا دیش ، پاکستان فریم ورک کے تحت تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ۔ طے پایا اگلا اسٹریٹجک ڈائیلاگ آئندہ سال اسلام آباد میں ہوگا۔






















