پاکستان کے لیے سال 2025 انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے اہم اور فعال رہا۔ اس دوران مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں نے ملک بھر میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا، سرحدی چیلنجز کا مقابلہ کیا اور عوام کے تحفظ کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔
مسلح افواج اور سیکیورٹی اداروں نے بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کیلئے 2025 کو بھی ڈراؤنا خواب بنادیا۔ دہشت گردی کے بڑے واقعات میں خضدار میں اسکول بس پر خودکش حملہ اور کوئٹہ کے قریب جعفر ایکسپریس ٹرین پر حملہ شامل ہے۔
بلوچستان کے ہی ضلع مستونگ میں سیکیورٹی فورسز کی بس کو دہشتگردوں نے بارودی سرنگ کے دھماکے سے نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ جنوبی وزیرستان میں وانا کیڈٹ کالج پر دہشت گردوں نے حملہ کرکے طلبا اور عملے کا یرغمال بنایا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان نے حملے کیے جو پاک وطن کے محافظوں نے کامیابی سے ناکام بنا دیئے۔
ملک بھر میں مجموعی طور پر 67,023 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کئے گئے، جن میں 4,910 خصوصی اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ایک ہزار 8 سو 73 دہشتگرد ہلاک کردیئے گئے، جن میں 136 افغان شہری شامل ہیں۔ ارض پاک اورامن کا دفاع کرتےہوئےقوم کے57 جانباز بیٹوں نےجام شہادت نوش کیا۔ سیکورٹی فورسز کے207 زخمی جوان اور افسران غازی رہے۔
گزشتہ سال میں سرحدی اور دہشتگرد حملوں کے پس منظرکی بات کی جائے تو ملک بھر میں 1,188 تشدد سے متعلق واقعات ریکارڈ ہوئے۔ کے پی اور بلوچستان کی زمین امن دشمنوں پر تنگ کردی گئی۔ خیبرپختونخوا میں 284 دہشتگرد حملے ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے 148 دہشتگرد ٹھکانے لگادیئے اور 1,116 مشتبہ افراد گرفتار کرلئے۔
بلوچستان اور دیگر صوبوں میں سرحدی نگرانی، دہشتگرد نیٹ ورک کی ناکہ بندی کی گئی اور بھاری تعداد میں غیر قانونی ہتھیار ضبط کیے گئے۔ رات کے وقت انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں نائٹ فائٹنگ اور ریپڈ رسپانس فورسز نے فوری ردعمل کے ذریعے خطرات کو ناکارہ بنایا۔
سن 2025 میں سیکیورٹی فورسز نے پھر ثابت کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے اور عوام کی حفاظت کے لیے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے مکمل تیار ہے۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قوم کے بہادر بیٹوں کی قربانیاں اور عزم اس بات کا عکاس ہے کہ امن دشمنوں کے مکمل خاتمے تک دہشتگردی کیخلاف جنگ ختم نہیں ہوگی۔






















