پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار رواں مالی کی پہلی سہ ماہی میں 3.71 فیصد تک پہنچ گئی۔ یہ رفتار آنے والے مہینوں میں برقرار رہنے کی بھی توقع البتہ مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔
وزارت خزانہ نے ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آوٹ لک رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ کے مطابق سیلاب کے باوجود شعبہ زراعت میں 2.89 فیصد ، صنعتی شعبے میں 9.38 فیصد اور خدمات کے شعبے میں بھی 2.35 فیصد بہتری رہی ۔
زرمبادلہ ذخائر مارچ 2022 کے بعد 20 ارب ڈالر کی بلند سطح پر ہیں، فسکل سرپلس 1323 ارب روپے اور پرائمری بیلنس بڑھ کر 3 ہزار 544 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
رپورٹ میں مہنگائی کی شرح دسمبر میں 5.5سے 6.5 فیصد کے درمیان معتدل رہنے کا تخمینہ ہے، نومبر 2025 میں یہ شرح 6.1 فیصد جبکہ نومبر 2024 میں 4.9 فیصد تھی۔ جولائی تا نومبر براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 25.3 فیصد کمی سے93 کروڑ ڈالر تک محدود رہی۔ پہلے پانچ ماہ میں برآمدات 3.2 فیصد کمی سے 12.8 ارب ڈالر رہی۔
ترسیلات زر 9.3 فیصد اضافے سے 16.14 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ درآمدات میں 11.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا، حجم 25.6 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق چار ماہ میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔ کرنٹ اکاونٹ خسارہ ابتدائی پانچ ماہ میں 81 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ریکارڈ ۔۔۔ یہ خسارہ موجودہ مالی سال کے مقررہ ہدف میں رہنے کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔۔
وزارت خزانہ کے مطابق جولائی تا نومبر ٹیکس ریونیو پچھلے سال کی نسبت 10.2 فیصد اضافے سے 4 ہزار 733 ارب ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم ہدف کے مقابلے میں 400 روپے سے زائد کمی رہی۔ پالیسی ریٹ 13 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آگیا۔



















