ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملے میں شہید ہوگئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ہفتہ کی صبح ان کے رہائشی کمپاؤنڈ پر فضائی حملہ کیا گیا جس کے بعد ان کی شہادت کی تصدیق کی گئی۔ وہ 86 برس کے تھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق خامنہ ای کی شہادت کے بعد حکومت نے 40 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کر دیا ہے جبکہ 7 روزہ عام تعطیلات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ حملوں میں خامنہ ای کی بیٹی، داماد اور پوتا بھی شہید ہوگئے ہیں۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور سے وابستہ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق خامنہ ای کی ایک بہو بھی حملے میں شہید ہوئیں۔
ایران کے مجمع تشخیص مصلحت نظام کے ترجمان محسن دہنوی نے اعلان کیا ہے کہ آیت اللہ علی رضا اعرافی کو عبوری قیادت کونسل میں مجلس خبرگانِ رہبری کے فقہی رکن کے طور پر منتخب کر لیا گیا ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 کے تحت صدر، عدلیہ کے سربراہ اور نگہبان شوریٰ کے ایک فقیہ پر مشتمل عارضی قیادت کونسل رہبرِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں سنبھالتی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی معذرت کرے تو مجمع تشخیص مصلحت نظام نیا رکن نامزد کرتی ہے۔
نئے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب 88 رکنی مجلس خبرگانِ رہبری کرتی ہے، تاہم 2 تہائی اکثریت نہ ہونے کی صورت میں عبوری کونسل ہی ذمہ داریاں انجام دیتی رہتی ہے۔
ایران کے سرکاری ذرائع اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مستقبل میں قیادت کی منتقلی کے حوالے سے ممکنہ جانشینوں کے چند نام زیر غور رکھے، تاہم ایران کے حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔




















