پاکستان کی عسکری قیادت نے سال 2025 میں تاریخی کامیابیاں سمیٹیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے تجربے اور اسٹریٹجک بصیرت کے ذریعے نہ صرف قومی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کیا بلکہ بین الاقوامی ذمہ داریاں بھی احسن طریقے سے نبھائیں۔ پاکستان نے سپہ سالار کی قیادت میں معرکہ حق کے دوران بھارت کا غرور خاک میں ملایا۔ امریکی صدر اب تک ساٹھ سے زائد بار فیلڈ مارشل کی تعریف کر چکے ہیں۔
سال 2025 چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف سید عاصم منیر کی بے مثال قیادت اور لازوال کامیابیوں کے نام رہا۔ سید عاصم منیر پاکستان کے دوسرے فیلڈ مارشل مقرر بنے جو ان کی خدمات اور قیادت کا اعتراف ہے۔ سپہ سالار نے نہ صرف مسلح افواج کی قیادت میں اپنی انتھک محنت اور شجاعت کا لوہا منوایا بلکہ پاکستان کی قومی سلامتی، دفاعی استعداد اور عالمی ساکھ کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز ہوں، بین الاقوامی تعلقات، دفاعی منصوبہ بندی یا فوجی جوانوں کا مورال ، سید عاصم منیر نے ہر لحاظ سے 2025 کو ایک یادگار سال بنایا۔
پاکستان کی افواج نے ہر شعبے میں بھارت کا غرور خاک میں ملایا ۔ متعدد ایئر بیسز اور سپلائی ڈپو سمیت دشمن کی اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ آرمی چیف عاصم منیر نے عظیم کامیابی پر کہا پاکستانی مسلح افواج کو اللہ کی جانب سے ہر طرح کی مدد آئی۔
فیلڈ مارشل نے بارہا بھارت کو خبردار کیا کہ جوہری ماحول میں کسی جنگ کی گنجائش نہیں اور تنازعات کو بین الاقوامی اصولوں اور باہمی احترام کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔ یہ پیغام پاکستان کی ذمہ دار عسکری پالیسی اور خطے میں جوہری ہتھیاروں کے خطرے کو کم کرنے کے عزم کا عکاس ہے۔ آرمی چیف نے افغانستان کے حوالے سے بھی پاکستان کا مؤقف واضح کیا۔۔ کہا کہ پاکستان تمام ہمسایوں کے ساتھ امن چاہتا ہے، لیکن افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
سال 2025 میں پاکستان نے امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک اور سفارتی روابط بھی بڑھائے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ دو ملاقاتیں ہوئیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات، علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون کا فروغ گفتگو کو محور رہا۔ ان ملاقاتوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ پاک بھارت تنازع کے بعد ہوئیں۔
امریکی صدر اب تک 60 سے زائد بار اس جنگ میں بھارتی طیارے گرنے اور پاکستانی فیلڈ مارشل کی بہترین صلاحیتوں کا ذکر کر چکے ہیں۔






















