مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر ناصر بٹ نے کہاہے کہ وزیراعظم نے ہی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت دی ہےجس پرمحمود خان اچکزئی نے ذمہ داری اٹھائی ہے لیکن بانی پی ٹی آئی وزیر اعلی کے پی کو کہہ رہے ہیں تیاری کرو ہم گلیوں میں مارچ کرینگے ، اس رویے اور سوچ سے کیا حل نکل سکتا ہے ؟
راولپنڈی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو میں سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ شہباز شریف کی پی ٹی آئی کومذاکرات کی پیش کش خوش آئند ہے ، مسلم لیگ ن دو سال سے مذاکرات کی بات کر رہی تھی، پی ٹی آئی نے پہلے انکار کیا، اب خود بات کر رہی ہے ، ان کا ٹریک رریکارڈ دیکھیں تو ان کے ساتھ اگر کوئی معاہدہ ہوا تو کیا اس پاسداری بھی کی جائے گی ؟
ایک سوال پر سینیٹر ناصر بٹ نے کہا پی آئی اے کا سالانہ خسارہ حکومت کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکا تھا ، دنیا بھر میں ایئرلائنز کی نجکاری ہو چکی، پاکستان میں بھی یہ ضروری تھی ، حکومت کے پاس پی آئی اے کے پچیس فیصد شیئرز اب بھی موجودرہیں گے، اسٹیل مل کی نجکاری بھی ہونی چاہیے، ناصر بٹ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جعلی لائسنس اسکینڈل نے پی آئی اے کو عالمی سطح پرنقصان پہنچایا، جعلی پائلٹ لائسنس کا اعلان کرنے والے سابق وزیر کو سزا کیوں نہیں دی گئی؟



















