پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر خان نے کہا ہے کہ اختیار نہ رکھنے والی حکومت سے مذاکرات ممکن نہیں لیکن بامقصد اور بااختیار مذاکرات کیلئے اب بھی تیار ہیں۔ ہمارے ساتھ یہی رویہ رہا تو سیاسی مفاہمت ممکن نہیں رہے گی ۔
اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو میں جنید اکبر خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم کوئی غیر قانونی مطالبہ نہیں کر رہے۔ ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق ملاقاتیں ہمارا حق ہیں۔ عملدرآمد نہ ہونے سے عدالتوں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ بانی کو سزا قانونی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی طور پر ملی۔ مذاکرات کی بات کی جاتی ہے مگر ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جاتی۔ حکومت کو سیاسی سپیس دینی ہوگی۔ ایف آئی آرز اور گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ پرامن کارکنوں اور پارٹی قیادت کے خلاف سخت رویہ ناقابلِ قبول ہے۔ خان صاحب کی فیملی اور بہنوں سے بھی ملاقات نہیں کرائی جا رہی۔ سیاسی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک پر عوام میں غصہ بڑھا رہا ہے۔ ٹوئٹس اور ویڈیوز پر پابندیاں مسئلے کا حل نہیں۔ ہم چاہتے ہیں ادارے مضبوط ہوں اور عوام ان کے پیچھے کھڑے ہوں۔ماضی کی غلطیوں کو دہرا کر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔






















