ڈنکی لگا کر ایران کے راستے یورپ جانے کے خواہشمند مزید دونوجوان زندگی ہار گئے ۔ لاشیں ایران ترکیہ بارڈر سے ملیں۔
غیرملکی ایجنٹوں نے ارمان اللہ اور احتشام سے لاکھوں روپے بٹورے۔ انسانی اسمگلنگ کا گھناؤنا دھندا جاری ہے۔ ارمان اللہ اور احتشام کی المناک موت سخت قوانین کی متضاضی ہے۔ ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپوکا کہنا ہے دونوں کی موت شدید موسمی حالات کی وجہ سے ہوئی۔
غیرملکی ایجنٹ نے نوجوانوں سے لاکھوں روپے وصول کیے، ارمان اللہ کی موت شدید بارش اور برفباری کے باعث ہوئی۔ 25 برس کے احتشام کا تعلق نوشہرہ سےتھا۔ سماجی کارکن ولی اللہ نے بتایا پاکستانی شہریوں کے لواحقین نے ہم سے رابطہ کیا تھا پھرہم نے لاشوں کا سراغ لگایا۔
ایران میں پاکستان کے سفیرمدثر ٹیپو نے سما کوبتایا کہ دونوں پاکستانیوں کی موت شدید موسمی حالات کی وجہ سے ہوئی، انسانی اسمگلرز نے انہیں ترکیہ کے بارڈر پر لا کر چھوڑ دیا تھا۔ میتیں وطن واپس پہنچانے کےلیے اقدامات کیےجارہے ہیں۔






















