سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ این ایچ اے کے ریونیو میں ایک سال میں 63 فیصد اضافہ کیا، 2024 میں این ایچ اے کا ریونیو 66.8 ارب روپے تھا، 2025 میں منافع بڑھ کر 108 ارب 90 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
تفصیلات کے مطابق عبدالعلیم خان نے کہا کہ گزشتہ 6 سال میں این ایچ اے کی آمدن میں اضافہ نہیں ہوا تھا، ہمارے آنے کے بعد ایک سال میں ریونیو میں نمایاں اضافہ ہوا، این ایچ اے کو 400 سے 500 ارب روپے کی کمپنی بنانا چاہتے ہیں، ہم حکومت سمیت کسی سے فنڈز نہیں مانگیں گے، موٹرویز اور قومی شاہرات پر سروس ایریازسمیت سہولیات دیں گے، مری ایکسپریس وے پر تمام بنیادی سہولیات فراہم کردی ہیں۔
وزیر مواصلات کا کہناتھا کہ 2026 میں ایئرایمبولنس سروس شروع کریں گے، ہر روڈ اور ہائی وے پر ہنگامی حالات کیلئے ایئرایمبولنس کی سہولت ہوگی، ہنگامی حالات یا ایمرجنسی میں ہیلی کاپٹر سے مریض کو اسپتال پہنچایا جائے گا، 30 سال بعد سکھر حیدرآباد موٹر وے کو بحال کیا جارہا ہے، وزیراعظم اور میرے لئے سکھر حیدرآباد اور حیدرآباد کراچی موٹر وے ترجیح ہے، سیالکوٹ کھاریاں اور کھاریاں سے راولپنڈی موٹروے بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس موٹر وے کو 4 سے 6 لین کررہے ہیں، لاہور سے اسلام آباد 100 کلومیٹر فاصلہ کم ہوگا، لاہور سے اسلام آباد سفر ساڑھے 3 سے ڈھائی گھنٹے رہ جائے گا، حکومت نے پی ایس ڈی پی میں 127 ارب روپے فنڈز مختص کئے، ہم نے اپنے وسائل سے خود 108 ارب روپے جنریٹ کئے، اگلے سال پی ایس ڈی پی سے بھی زیادہ کما کردیں گے، ہم نے این ایچ اے کو اربوں روپے کما کردیئے ہیں۔
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ چترال سے شندور اور پھر نیچے علاقے کو بھی لنک کریں گے، 40 ارب کے منصوبے کیلئے 2، 4 یا 10 ارب ہی ملتے ہیں، لیاری ایکسپریس وے کا وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ جلد افتتاح کریں گے، آواران، کوہاٹ اور بنوں سمیت 4 روڈ تیار کر لئے ہیں، بڑے منصوبوں کیلئے 1.6 ٹریلین روپے تک کی فنڈنگ کا انتظام ہوگیا۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ میگا موٹرویز اور شاہراہوں پر ایک ساتھ کام شروع کرسکتے ہیں، ان منصوبوں کیلئے حکومتی فنڈنگ بھی دستیاب ہے، پاکستان ایکسپریس وے کوئٹہ چمن کا منصوبہ 2 سال میں مکمل کریں گے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر پرویز رشید نے عبدالعلیم خان کی بریفنگ پراظہار اطمینان کیا ۔






















