اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن کے تحت دوحا میں منعقدہ کانفرنس کے دوران پاکستان کی سول سوسائٹی نے ملک میں جاری انسداد بدعنوانی اصلاحات کو عالمی برادری کے سامنے اجاگر کیا۔ کانفرنس میں قانونی اصلاحات، ادارہ جاتی مضبوطی، ڈیجیٹل گورننس اور شراکت داری کے ذریعے حاصل ہونے والی پیش رفت پر روشنی ڈالی گئی۔
دوحہ میں منعقدہ کانفرنس میں 190 سے زائد ممالک اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہیں۔ سَسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے سید کوثر عباس نے کانفرنس میں پاکستان کی سول سوسائٹی کی نمائندگی کی۔ کانفرنس سے خطاب میں سید کوثر عباس نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں کے دوران بدعنوانی کو ایک چیلنج کے طور پر دیکھتے ہوئے نمایاں اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ان میں احتسابی قوانین کی مضبوطی، وفاقی و صوبائی سطح پر حق معلومات قوانین کا نفاذ اور وہسل بلوور کے تحفظ کے فریم ورک کا اجرا شامل ہے۔ ادارہ جاتی سطح پر قومی احتساب بیورو اور صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ مختلف سرکاری محکموں میں انٹیگریٹی کمیٹیاں اور مینجمنٹ سیلز قائم کیے گئے ہیں۔
ڈیجیٹل اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے سید کوثر عباس نے کہا کہ سماجی تحفظ کے پروگرامز، لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ، اثاثہ جات کی ریکوری، سیاسی مالیات کی نگرانی، لائسنسنگ سسٹمز اور شکایات کے ازالے کے پلیٹ فارمز میں ڈیجیٹائزیشن سے شفافیت میں اضافہ اور اختیارات کے غلط استعمال میں نمایاں کمی آئی ہے۔
سید کوثر عباس نے کہا کہ سول سوسائٹی تنظیمیں پاکستان کی انسداد بدعنوانی کوششوں میں کلیدی شراکت دار رہی ہیں۔سول سوسائٹی نے تحقیق اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لیے حکمرانی میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی۔ انسداد بدعنوانی میں پائیدار پیش رفت کے لیے حکومت اور سول سوسائٹی کے درمیان منظم روابط، ڈیجیٹل شفافیت کے اقدامات میں توسیع اور یو این سی اے سی کی سفارشات کو قومی سطح پر مؤثر انداز میں نافذ کرنا ناگزیر ہے۔






















