بھارت کی مداخلت اور مودی کی سفاک پالیسیوں نے بنگلا دیش کو آگ و خون میں دھکیل دیا۔
قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے طلبا رہنما عثمان ہادی سنگاپور کے اسپتال میں چل بسے۔ بنگلا دیشی طلبہ نے قتل کا ذمہ دار بھارت کو ٹھہرا دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق عثمان ہادی کو بھارتی فون نمبرز سے قتل کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔
دارالحکومت ڈھاکا اور دیگر شہروں میں پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ بھارتی سفارت خانے کے باہر احتجاج کیا گیا۔ بھارت کی جانب جھکاؤ رکھنے کے الزام میں دو اخبارات کے دفاتر کو بھی آگ لگائی گئی۔
چٹاگانگ میں ایک سابق وزیر کی رہائش گاہ پر حملہ ہوا۔ بھارتی سفارتی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مظاہرین نے دارالحکومت سے جانے والی ایک اہم شاہراہ کو بند کر دیا۔ بنگلا دیش نے قاتلوں کی سرپرستی کرنے والے مودی کو دوٹوک پیغام دیا ہے کہ مزید مداخلت برداشت نہیں۔عدم استحکام پھیلانے کی صورت میں مزاحمت سرحد پار بھی پھیل سکتی ہے۔





















