کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کےاجلاس کی اندرونی کہانی منظر عام پر آ گئی ہے ، اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے میں مسلسل اضافہ جاری ہے،پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ اکتوبر 2025 کے اختتام تک گردشی قرضہ 1817 ارب تک پہنچ چکاہے۔
ذرائع کے مطابق آئی پی پیز کے واجبات 1069 ارب روپے ہو چکے ہیں، بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے کا خدشہ ہے، معاشی سرگرمیوں،حکومتی مالی ذمہ داریوں پرمنفی اثرات مرتب ہونے کاخدشہ ہے، بجلی کے شعبے میں مالی استحکام کیلئے200 ارب روپے فوری درکارہیں۔
ای سی سی نے 105ارب روپے بطور تکنیکی ضمنی گرانٹ پاور ڈویژن کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی جبکہ مزید 95 ارب روپے موجودہ بجٹ سے ڈسکوز میں سرمایہ کاری کے طور پر جاری کرنے کی بھی ہدایت کر دی گئی ۔
پاور ڈویژن حکام کے مطابق فوری نقد رقوم کی فراہمی سے پاورسیکٹر کی لیکویڈیٹی بہتر ہو گی، آئی پی پیز کو ادائیگیوں میں بھی سہولت ملے گی، لیٹ پیمنٹ سرچارجز اور گارنٹی کالز کے خطرات میں کمی آئے گی، سرکلر ڈیٹ کے بہاؤ کو قابو میں رکھنےمیں مدد ملے گی، سبسڈیز اور مالی وسائل کی بروقت فراہمی بجلی کے شعبے کے استحکام کیلئے لازمی قرار دیا گیا۔ یہ صارفین کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی کیلئے ناگزیر ہے۔






















