وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مس انفارمیشن آج کی دنیا کا سب سے بڑا چیلنج ہے، موجودہ دور میں سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال ضروری ہے، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے تخلیقی ذہنوں کے لئے ملازمتوں کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، ہمیں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی میں توازن قائم کرنا ہوگا۔
نیشنل سائبر سکیورٹی کی اختتامی تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سائبر سکیورٹی کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے آبادیاتی حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ جب ہم پاکستان کے سائبر اسپیس کا جائزہ لیتے ہیں تو یہاں 11 کروڑ 70 لاکھ سے زائد انٹرنیٹ صارفین، 14 کروڑ 80 لاکھ موبائل براڈ بینڈ صارفین اور 7 کروڑ 90 لاکھ سے زائد سوشل میڈیا صارفین موجود ہیں۔ ان آبادیاتی حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو ڈیجیٹل سائبر سپیس کو دو واضح کیٹیگریز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
یہ ایک دلچسپ پہلو ہے کہ سائبر سپیس میں بھی دو قسم کے افراد ہیں، ایک طبقہ ڈیجیٹل امیگرینٹس جو اس ارتقائی سفر کا حصہ رہے ہیں جبکہ دوسرا طبقہ ڈیجیٹل نیٹیوز کا ہے جو اس نظام میں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نیٹیوز کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال فطری امر ہے جبکہ ڈیجیٹل امیگرینٹس اب بھی سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال سے ہم آہنگ ہونے کے عمل میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سائبر سیکورٹی سے متعلق آگاہی کے لئے کوئی ایک جامع حل ایسا نہیں ہو سکتا جو سب کے لئے یکساں طور پر موثر ہو۔ مختلف طبقات تک موثر رسائی کے لئے مختلف ذرائع، مختلف طریقہ کار اور مختلف اصطلاحات اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ چار دہائیوں کے دوران سائبر سپیس نے تیز رفتار ارتقاء دیکھا ہے تاہم میڈیا منطر نامے کے حوالے سے بات کی جائے تو یہاں روایتی ذرائع ابلاغ سے الیکٹرانک میڈیا تک بتدریج، منظم اور فطری ارتقائی عمل وقوع پذیر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ روایتی میڈیا یعنی پرنٹ میڈیا ایک مکمل ارتقائی عمل کے تحت الیکٹرانک میڈیا میں تبدیل ہوا۔ اس دوران ادارتی نگرانی موجود تھی، ادارتی بورڈز کا نظام تھا اور 2000ء کی ابتدائی دہائی میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا جس کے تحت باقاعدہ ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اسی منظم عمل کے نتیجے میں یہ ارتقا ممکن ہوا لیکن بدقسمتی سے الیکٹرانک میڈیا سے ڈیجیٹل میڈیا کی جانب ہونے والا دوسرا ارتقا غیر فطری عمل تھا جس کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا۔ یہ تبدیلی اچانک ہمارے سامنے آئی اور ہم نے اسے جیسے پایا ویسے قبول کر لیا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ چونکہ یہ ارتقا نہایت تیز رفتاری سے وقوع پذیر ہوا، اس لیے اس مرحلے پر مناسب ریگولیٹری فریم ورک کا فقدان رہا، آگاہی کی کمی دیکھنے میں آئی اور اس کی بنیادی وجہ سمجھ بوجھ کا فقدان تھا کیونکہ ہمیں سائبر سپیس، سائبر سکیورٹی اور اس کی حقیقتوں کو سمجھنے میں خاصا وقت لگا۔ ان عوامل کے نتیجے میں ڈیجیٹل خواندگی کا فقدان اور ذمہ دارانہ رویے کی کمی سامنے آئی کیونکہ ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ذمہ درانہ رویہ دراصل ہوتا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر سکیورٹی اور سوشل میڈیا کا ذمہ درانہ استعمال نہایت اہم ہے، یہ ہمارے عہد کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ورلڈ اکنامک فورم میں جب عالمی رہنماؤں سے سوال کیا گیا کہ ہمارے دور کے سب سے بڑے چیلنجز کیا ہیں تو کسی نے بھی جوہری جنگ اور ماحولیاتی تبدیلی کو نہیں بلکہ مس انفارمیشن اور جھوٹی خبروں کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی اے نے بھی نشاندہی کی کہ محض ایک کلک کے ذریعے ہم اکثر اس بات کا ادراک نہیں کر پاتے کہ اس کے کتنے تباہ کن اور نقصان دہ نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بونڈی بیچ پر پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ واقعہ پیش آتے ہی سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کی بھرمار دیکھنے میں آئی اور حملہ آور کے نام کو دیکھتے ہی ڈیجیٹل سپیس میں بعض نام نہاد ذمہ دار میڈیا اداروں نے فوری طور پر یہ الزام عائد کر دیا کہ حملہ آور کا تعلق پاکستان سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا ملک جو خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے، جو آج بھی دہشت گردی کا نشانہ ہے اور مسلسل دہشت گردوں کے خلاف برسرِپیکار ہے، اس کے بارے میں بغیر کسی ثبوت اور بغیر کسی مستند معلومات کے اس نوعیت کے الزامات لگانا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دعوؤں کی تائید کے لیے نہ کوئی شواہد موجود تھے اور نہ ہی کوئی قابلِ اعتماد معلومات، اس کے باوجود یہ بات بغیر تحقیق کے پھیلا دی گئی اور پھر مستند عالمی میڈیا اداروں نے بھی دعویٰ کر دیا کہ حملہ آور کا تعلق پاکستان سے ہے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ غیر ملکی میڈیا کے پاس اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت یا ٹھوس شواہد موجود نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس مخصوص دعوے کے پاکستان پر نہایت تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پاکستانی آسٹریلیا، یورپ یا امریکہ میں کہیں بھی مقیم ہو تو وہ براہ راست خطرے میں آ جاتا ہے کیونکہ بغیر کسی ثبوت کے بیرون ملک ہونے والے ایک حملے کو پاکستان سے جوڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب 16 دسمبر کے روز ہوا جب پاکستان آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداء کی قربانیوں کو یاد کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ ایک جانب ہم اپنے ان بچوں کو خراج عقیدت پیش کر رہے تھے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں جبکہ دوسری جانب دنیا بھر میں بعض نام نہاد ذمہ دار میڈیا اداروں کی جانب سے جعلی خبریں پھیلائی جا رہی تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ حملہ آور کا تعلق پاکستان سے ہے اور پھر سب نے دیکھا کہ اس کے بعد حالات کس رخ پر چلے گئے۔
انہوں نے کہا کہ جب پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا کی جانب پہلے ارتقاء کی بات کی جاتی ہے تو اس دوران بہت سے مراحل طے کئے گئے۔ وسیع میدان کور کیا گیا اور ریگولیٹری فریم ورک موجود تھا تاہم اس اچانک ڈیجیٹل انقلاب کے باعث اتنا بڑا خلا پیدا ہوا ہے جس پر فوری توجہ درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لئے اس نوعیت کے مزید اقدامات کی ضرورت ہے اور حکومت اور وزارت اس مقصد کے لئے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی سوچ کے تحت پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا کیونکہ جب انہوں نے وزارت اطلاعات کا قلمدان سنبھالا تو اس وقت کوئی باقاعدہ ڈیجیٹل ڈیپارٹمنٹ موجود نہیں تھا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کر دیا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات میں اپنا فیکٹ چیک یونٹ موجود ہے اور میڈیا اداروں کے ساتھ روابط قائم کئے گئے ہیں تاکہ جعلی خبروں کی تصدیق اور ان پر قابو پایا جا سکے لیکن مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے ٹک ٹاک کے اقدام کو سراہا جس نے اے آئی لیبلنگ متعارف کرائی ہے تاکہ صارف یا سبسکرائبر اس بات سے آگاہ ہو کہ جو مواد دیکھا جا رہا ہے وہ اے آئی کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک چھوٹا قدم ہے جسے دیگر تمام پلیٹ فارمز کو اپنانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت اشتہارات بھی اے آئی سے تیار ہو رہے ہیں، اس سے کئی پیشے متاثر ہو رہے ہیں جیسے کہ مواد بنانے والا، ڈائریکٹر، گرافک ڈیزائنر اور اداکار یعنی ایسے افراد کا روزگار ختم ہو رہا ہے جو باعث تشویش ہے۔ اس لئے اس میں توازن قائم کرنا ضروری ہے اور آگاہی کے حوالے سے بھی کوئی یکساں پالیسی قابل عمل نہیں ہے۔ مختلف طبقات کو سوشل میڈیا کی ضروریات کے مطابق آگاہ کرنا ضروری ہے کیونکہ ہر پلیٹ فارم کے اپنے مخصوص استعمال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بڑا چیلنج ہے مگر وہ پر امید ہیں کہ آج جیسے پروگرام اور پی ٹی اے، یو این ڈی پی اور حکومت پاکستان کی وابستگی کے ساتھ صحیح حکمت عملی کے ذریعے ہم اس چیلنج سے نمٹ سکتے ہیں۔






















