ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے واشنگٹن دورے سے متعلق کوئی مصدقہ معلومات نہیں۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کے دورے سے متعلق "رائٹرز" کی خبر درست نہیں۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سرکاری دوروں کا اعلان حکومت پاکستان باضابطہ طور پر کرتی ہے۔ پاکستان نے تاحال آئی ایس اے ایف میں شرکت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا، بین الاقوامی استحکام فورس میں شرکت سے متعلق کسی پیش رفت پر بروقت آگاہ کیا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریاؤں سے متعلق یکطرفہ اقدام خطے کے امن و امان کے لیے خطرہ ہے اور عالمی برادری کو بھارتی جارحانہ اقدامات کے خلاف نوٹس لینا چاہیے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ بونڈائی بیچ حملے سے پاکستان کو جوڑنا افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے، ایک پاکستانی نام اور تصویر بغیر تصدیق میڈیا پر دکھائی گئی، غلط رپورٹنگ سے ایک بے گناہ فرد اور اس کے خاندان کو خطرات لاحق ہوئے، بھارتی میڈیا نے واقعے پر غلط معلومات اور پروپیگنڈا پھیلایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی رپورٹ پاکستان کے طالبان حکومت سے متعلق خدشات کی تصدیق کرتی ہے، افغانستان میں متعدد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی، فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان سمیت دیگر دہشت گرد گروہ افغانستان میں فعال ہیں، افغانستان میں دہشت گرد عناصر کو کابل حکومت سے وظائف ملنے کی بااعتماد رپورٹس موجود ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاک افغان جنگ بندی روایتی دو فریقی جنگ بندی نہیں، جنگ بندی کا مقصد افغانستان سے پاکستان پر دہشت گرد حملے روکنا تھا، بدقسمتی سے افغانستان سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملے تاحال جاری ہیں۔ افغانستان میں دہشتگرد عناصر کی موجودگی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ دہشتگردوں کو افغان سرزمین پر معاونت ملنے کے بھی قابلِ اعتماد شواہد ہیں۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی چینلز فعال ہیں، دونوں ممالک کے سفیر اپنے اپنے دارالحکومتوں میں موجود ہیں، دوطرفہ معاملات سفارتی ذرائع سے زیر بحث آتے رہتے ہیں، پاکستان خطے میں مسلسل سفارتی رابطوں کی حمایت کرتا رہے گا۔






















