خیبرپختونخوا میں ہیمپ اور بھنگ کی کاشت کو قانونی حیثیت دینے کے لیے باقاعدہ لائسنسنگ نظام متعارف کرانے کی تجویز سامنے آگئی۔ لائسنس سے متعلق دستاویزات کو حتمی شکل دینے کے لیے ورکنگ گروپ قائم کر دیا گیا ہے۔
ادویات کے لیے پانچ ایکڑ رقبے پر ہیمپ یا بھنگ کی کاشت کے لائسنس کی فیس 6 لاکھ روپے مقرر کرنے جبکہ لائسنس کی مدت تین سے پانچ سال رکھنے پربھی غورکیا جا رہا ہے۔
ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان کے مطابق لائسنس سے متعلق دستاویزات کو حتمی شکل دینے کے لیے ورکنگ گروپ قائم کر دیا گیا ہے، جس میں جامعہ پشاور کے شعبہ فارمیسی اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے نمائندے شامل ہیں۔ ہیمپ اور بھنگ کی کاشت اور پروسسنگ کی نگرانی محکمہ ایکسائز ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کرے گا۔
ڈی جی ایکسائز کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں ہیمپ کی کاشت کی اجازت دی جا رہی ہے، جسے اورکزئی اورخیبرمیں متبادل فصل کے طورپرمتعارف کرایا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں بھنگ کے لائسنس کے اجرا پر غور کیا جائے گا۔ ان کے مطابق تمام لائسنس سخت جانچ پڑتال اور طے شدہ پروٹوکول کے تحت جاری ہوں گے اور صرف ادویات بنانے والی بڑی کمپنیوں کو ہی لائسنس دیے جائیں گے ۔






















