وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے نمائندوں کو لائسنس کے اجرا، کے پی ٹی اور پورٹ قاسم میں پارکنگ کی فراہمی سمیت دیگر مسائل کے حل کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی بھی شریک ہوئے، جبکہ ٹرانسپورٹرز نے ایکسل لوڈ، موٹروے پولیس اور دیگر انتظامی مسائل سے آگاہ کیا۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ ہڑتال سب کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے، تاہم اس کے منفی اثرات سب سے زیادہ ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد پر پڑتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا سمیت وفاقی حکومت سے متعلق تمام جائز مسائل جلد حل کیے جائیں گے ، حادثات میں جاں بحق ہونے والے ہم سب کے بچے ہیں۔ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کے پی ٹی اور پورٹ قاسم میں پارکنگ کی سہولت فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
وفاقی وزیر مواصلات کا کہنا تھا کہ ایکسل لوڈ کی پابندی دراصل ٹرانسپورٹ مالکان کے اپنے مفاد میں ہے، جبکہ ناردرن بائی پاس کو چھ سے آٹھ رویہ بنانے کا منصوبہ بھی زیر عمل ہے۔ انہوں نے وفاقی سیکرٹری مواصلات، آئی جی موٹرویز اور ایف بی آر کے افسران کو کراچی جا کر گڈز ٹرانسپورٹرز سے مذاکرات آگے بڑھانے کی ہدایت بھی جاری کر دی۔
اس موقع پر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ ہڑتال یا احتجاج کے بجائے مسائل کے مثبت حل کو ترجیح دیں گے۔ الائنس کے نمائندوں نے کہا کہ ہڑتال ملک اور معیشت کے نقصان کا باعث بنتی ہے، اس لیے وہ ملکی معیشت کے لیے مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔





















