آئی ایم ایف ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت جاری اصلاحات پر وزارت خزانہ کی وضاحت آگئی۔
وزارت خزانہ نے واضح کیا ہےکہ آئی ایم ایف قرض پروگرام کے تحت پاکستان کو دیئے گئے میمورنڈم میں کوئی نئی چیز شامل نہیں۔ جاری اصلاحاتی ایجنڈا پہلے سے طے شدہ۔ صرف مرحلہ وار نفاذ کیا جا رہا ہے،عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے کوئی اچانک یا غیر متوقع نئی شرائط نہیں رکھی گئیں،ایجنڈا ملک کے معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے اہم ہے،آئی ایم ایف پروگرام کے آغاز پر حکومت نے مجوزہ اصلاحاتی پالیسیاں پیش کیں۔
اعلامیےمیں کہاگیاکہ آئی ایم ایف ان پالیسیوں کومرحلہ وارایم ای ایف پی کاحصہ بناتا ہے،نیب کی کارکردگی اورخودمختاری میں بہتری پرگذشتہ جائزوں میں اتفاق ہوا،یہ اقدام گورننس اور کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ سےقبل کاطےشدہ ہے،صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کومالی معلومات تک رسائی دینا اصلاحات کا حصہ ہے،یہ اصلاحات شروع سےہی ای ایف ایف پروگرام کا حصہ ہیں۔
وزارت خزانہ کےمطابق آئی ایف ایف طے شدہ درمیانی مدت کی اصلاحاتی حکمت عملی کا عکاس ہے،
اس میں شامل کئی اصلاحات پر حکومت پہلے سےعمل پیرا ہے،درمیانی مدت کی ساختی اصلاحات مرحلہ وار نافذکی جاتی ہیں،ہر آئی ایم ایف جائزےمیں نئے اقدامات شامل کئے جاتے ہیں، پروگرام کے آغاز میں طے شدہ حتمی اہداف کو بتدریج حاصل کیا جاتا ہے،دوسرے جائزے کے بعد طے شدہ ایم ای ایف پی پہلے جائزے کا تسلسل ہے۔
اعلامیہ کےمطابق سرکاری ملازمین کے گوشواروں کی اشاعت کامعاملہ مئی 2024 سےشامل تھا،موجودہ ساختی ہدف سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں ترمیم کے بعد کا قدم ہے،حکومت نے ترسیلات زر میں اضافہ کے لیے غیر رسمی ذرائع کی حوصلہ شکنی کی،حکومتی کوششوں سے سال 2025 میں ترسیلات زر میں 26 فیصد سالانہ اضافہ ہوا،سال 2026 میں ترسیلات زر میں 9.3 فیصد مزید اضافہ متوقع ہے،حکومت اسٹیٹ بینک سے ملکر ترسیلات زر کی لاگت کم کرنے کے لیے کوشاں ہے،آئی ایم ایف نے اسی تناظر میں ان اقدامات کو ایم ای ای پی میں شامل کیا
وزارت خزانہ کا کہنا ہےکہ مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کی ترقی کے لیے جامع مطالعہ کی سفارش مئی 2025 میں ہوئی،اب اس مطالعہ کو ایک ساختی ہدف کے طور پر پروگرام میں شامل کیا گیا ہے،شوگر سیکٹرمیں اصلاحات بھی حکومت پاکستان کا اپنا اقدام ہے،وزیراعظم آفس نے وزیر توانائی کی سربراہی میں ٹاسک فورس تشکیل دیدی ہے،ٹاسک فورس صوبوں کی مشاورت سے اپنی سفارشات تیار کر رہی ہے،یہ اقدام بھی ای ایف ایف کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے،اس کامقصد اجناس کی منڈیوں میں حکومتی مداخلت کم کرنا ہے،آئی ایم ایف نے اسی لیے اس کام کو ایم ای ایف پی کا حصہ بنایا ہے۔






















