اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی خوراک کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ظاہر کردیا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کےمطابق دنیا کی بڑی مقدار میں توانائی اسی اہم آبی گزرگاہ سےگزرتی ہے،عالمی خام تیل کا تقریباً 38 فیصد، ایل پی جی کا 29 فیصد،ایل این جی کا 19 فیصد شامل ہے،سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والی کھاد کا ایک تہائی حصہ بھی اسی راستے سے گزرتا ہے،اس گزرگاہ میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو توانائی، کھاد اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔
تجارتی و ترقیاتی ادارہ برائے یواین کےمطابق اس کا سب سے زیادہ اثر کمزور اور غریب طبقات پر پڑے گا، صورتحال کا سب سےزیادہ اثر ایشیا پر پڑ سکتا ہے،آبنائے ہرمز سےگزرنے والی تقریباً 84 فیصد اشیا ایشیائی ممالک کو جاتی ہیں۔





















