تحریر؛ سجادحسین
کسی بھی ملک کیلئے وسائل کی منصفانہ تقسیم اورمعاشی خود کفالت بہت ضروری ہوتے ہیں،انتظامی ڈھانچوں میں تبدیلی سے اگر عوام کے مسائل کا حل ممکن ہے تو اس میں مضائقہ ہی کیا ہے۔اگرچہ نئے صوبوں کے بنانے کا معاملہ بہت پہلے کا ہے لیکن اب یہ وقت کی ضرورت بنتا جارہا ہے۔
پاکستان کو معاشی عدم استحکام،امن اورروزگاری کے مسائل کا بھی سامنا ہےتوایسےمیں یہ بحث چھڑ جاتا کہ نئے صوبوں کی تشکیل کی جائے تو یہ کیسے ممکن ہوگا؟ پاکستان کے مسائل دہائیوں پرانے ہیں اگر انتظامی ڈھانچوں میں تبدیلیاں کی جائیں، اس کی مثال اس طرح سے بھی سمجھی جا سکتی ہے کہ پنجاب کی آبادی تقریبا 12 کروڑ ہے اور سندھ کی آبادی تقریبا7 کروڑ توکیا صرف ایک سیکرٹریٹ، ایک ہائیکورٹ،ایک وزیراعلیٰ،یہ سب مسائل کو کیسے حل کرے گا جو کہ ابھی تک نہیں کیے جاسکے اور عوام کی شکایات تو آپ روزبروزمیڈیا پر سنتے ہی رہتے ہیں، جب اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں گے اور نئے ادارے بننے کے ساتھ ساتھ وہاں پر روزگارکے مواقع بھی توپیدا ہوں گے۔لیکن اگر ہم ایسے ہی کرپشن کرتے رہے، سرکاری ملازمین کام چور بنے رہے، حکومتی وزراء ڈلیور نہ کرپائے تو پھر نئے انتظامی ڈھانچوں کا بھی فائدہ ہوسکتا ہے کہ نہ ہو۔
اگربات کی جائے دنیا بھر کی تو دنیا بھر میں مختلف ممالک میں صوبوں کی تعداد پاکستان کے صوبوں سےکہیں زیادہ ہے تو شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ہم سے انتظامی اور وسائل کی تقسیم میں بہتر ہیں۔یورپی ملک فرانس کے 22 صوبائی خطے ہیں جب کہ جرمنی کی 16 ریاستیں،الجیریا کے 48 صوبے، انگولا کے 18، سعودی عرب کے 13، ارجنٹائن کے 23، آرمینیا کے 11، بیلجیئم کے 7، بلغاریہ کے 28 اور کوسٹاریرکا کے 7 صوبے ہیں۔
آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے مسلم ملک انڈونیشیا میں 33 صوبے ہیں جب کہ کانگو میں 26، کیوبا میں 15، نگارا گوا میں 15، ڈومینیکن ریپبلک میں 33، ایکواڈور میں 24 اور فجی میں 14 صوبے ہیں۔تقریباً 3 کروڑ کی آبادی پر مشتمل ملک سری لنکا کے اس وقت 9 صوبے ہیں جب کہ ہالینڈ میں 12، شمالی کوریا میں 10، پانامہ میں 9، جنوبی افریقہ میں 9، جزائر سلومن میں 9، جنوبی کوریا میں 10، تاجکستان میں 3، ترکمانستان میں 5، یوکرائن میں24، ازبکستان میں 12، زمبابوے میں 8 اور زمبیا میں 9 صوبے ہیں۔فلپائن کے 82 صوبے ہیں، ترکی کے 81، تھائی لینڈ کے 77، عمان کے 61، ویتنام کے 58 جب کہ چلی کے 54 صوبے ہیں، یونان کے 1940 کی دہائی میں 39 صوبے تھے جو اس وقت بڑھ کر 147 ہو گئے ہیں۔
آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک بھارت میں 28 صوبے اور 7 وفاقی حکومت کے زیرانتظام مرکز ہیں جب کہ 1947ء میں بھارت کے صرف 9 صوبے تھے، ایران کے پاس 1950 تک 12 صوبے تھے لیکن اس وقت وہاں 31 صوبے ہیں۔اور پاکستان ایک بے ہنگم طریقے سے مسائل کو حل کرنے کیلئے سرتوڑ کوششیں کررہا ہے لیکن ثمرات عوام تک پہنچ نہیں پارہے، صرف انصاف کی ہی مثال لے لیں جسے کسی بھی ملک،معاشرے کا سب سے اہم ادارہ تصور کیا جاتا ہے حالیہ خبروں میں ایک ایسا کیس بھی ملاکہ جس کا فیصلہ 20سال بعد سنایا گیا جب تک کہ مدعی کا انتقال ہوچکا تھا لیکن معاملہ یہاں نہیں رکتا ایک اور کیس میں ایک سائیکل چور کو 6 ماہ کی سزا سنائی گئی تھی لیکن اس نے اپنی زندگی کے 10سال جیل میں گزار دیئے۔
اس طرح کے ہزاروں کیسز ہیں جن کے فیصلے وقت پر نہیں کیے جاتے اور ججز کہتے ہیں کہ ہمارے پاس تو لاکھوں کیسز ہیں، عدالتیں کم ہیں،عملہ کم ہے،جج کم ہیں، جس کے باعث ہم فیصلے کرنے میں تاخیر کا شکار ہوجاتے ہیں۔اگرپاکستان کے 12 یا اس سے زائد صوبے بنتے ہیں تو انصاف کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے میں یہاں یہ بات نہیں کر رہا کہ تمام عدالتیں درست فیصلے کرتی ہیں البتہ اس سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے کہ کیسز کی تعداد تقسیم ہونے سے فیصلے جلد ہوں گے اور عوام کے مسائل حل ہوں گے۔بات کررہے تھے 12 یا اس سے زائد صوبوں کی تو ہائیکورٹس بھی تو 12 ہی بنیں گے ہر صوبے کے حصے میں آبادی کے تناسب سے جب دو سے تین ہائیکورٹس میں اضافہ ہوگا تو فیصلے میں جلد ہوں اور انصاف بھی تیز ہوگا جس کی پاکستان کو ضرورت ہے۔
چند روز قبل وفاقی وزیرمواصلات عبدالعلیم خان نے اپنے ایک بیان میں نئے صوبوں کی تشکیل پر بات کی ہے جسے میڈیا پر کافی پزیرائی بھی ملی اور بحث بھی ہوئی۔موجودہ حالات میں استحکام پاکستان پارٹی نئے صوبے بنانے کے حق میں ہے، اسی طرح میاں عامرمحمود جو دنیا ٹی وی اور پنجاب گروپس کے مالک ہیں انہوں نے بھی برملانئے صوبوں کی تشکیل پر بات کی ہے۔اب دیکھنا ہوگا کہ کیا مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا اتفاق ہوپائے گا یا نہیں؟
نوٹ: یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے اس کا ادارے سے متفق ہونا لازمی نہیں ہے۔





















