آسٹریلیامیں16 سال سےکم عمربچوں پرسوشل میڈیا کےاستعمال پر پابندی کااطلاق ہوگیا،انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سمیت 10 بڑے پلیٹ فارمز پر10 لاکھ اکاونٹس بلاک کردئیے گئے ہیں۔
آسٹریلیا نے وہ کردکھا جودُنیا میں آج تک کوئی ملک نہیں کرسکا،16 سال عمر تک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنےپرپابندی لگادی،اب انسٹاگرام ہویا ٹک ٹاک،یوٹیوب سمیت 10 بڑے پلیٹ فارمزپر10 لاکھ سے زیادہ اکاونٹس بھی بلاک کردیے گئے
بچوں کیلئےسوشل میڈیا کئی اعتبار سے زہرقاتل ہے،سوشل میڈیا کا استعمال نہ صرف بچوں کی ذہنی نشوونما کوروک دیتا ہےبلکہ بینائی بھی بُری طرح متاثرہوتی ہے،امریکی تحقیق بتاتی ہے کہ باقاعدگی سے سوشل میڈیا استعمال کرنیوالے13 سال سے کم عمر بچوں کا مطالعہ ۔ حافظہ اور الفاظ کا ذخیرہ انتہائی کمزور ہوجاتا ہے،اسکول جانےوالے ایسے بچےتعلیم کےمیدان میں بہت پیچھے جارہے ہیں،بچوں کو بولنے اور الفاظ سمجھنے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔
تحقیق کے طمابق بچوں کے تیزی سے بدلتے رویے ۔ بےجا غصہ آنا اورچھوٹوں پر تشدد کرنے کی بھی ایک وجہ سوشل میڈیا کا استعمال ہے،صرف 1 گھنٹہ سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کی پڑھنے لکھنے کی
صلاحیت کومائنس میں لےجاتا ہے۔
ایسےمیں آسٹریلوی حکومت کی جانب سے 16 سال سے کم عمر بچوں کےسوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانا خوش آئند اقدام ہے،والدین اور بچوں کے حقوق کی تنظیمیں بھی اِس فیصلے کو سراہ رہی ہیں،صرف پابندی ہی نہیں لگائی گئی بلکہ خلاف ورزی پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو3 کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر تک جرمانہ ہوگا۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت 17 کروڑ اسمارٹ فون صارفین ہیں اور زیادہ تر گھرانوں میں بچوں کو اسمارٹ فون استعمال کرنے کی کھلی اجازت ہے۔






















