قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا نوید قمر کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس دوران ایف بی آر حکام کا مہنگے اسمارٹ موبائل فونز پر 55 فیصد تک ٹیکس ڈیوٹی وصول کرنےکا اعتراف کر لیا ۔کمیٹی ارکان نے موبائل فونز پر ٹیکسوں میں کمی کا متفقہ مطالبہ کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق کمیٹی چیئرمین نوید قمر نے کہا کہ کہا کہ ایف بی آر گاڑیوں کے بعد موبائل فونز پر بے تحاشہ ٹیکس لے رہا ہےکیا اس ملک میں بڑی گاڑی یا موبائل فون رکھنا گنا ہ ہے۔کمیٹی ارکان نے کہا کہ موبائل فون کوئی لگژری آئٹم نہیں بلکہ ہر کسی کی ضرورت ہے ۔
ایف بی آر حکام نے اعتراف کیا کہ مہنگے اسمارٹ موبائل فونز پر 55 فیصد تک ٹیکس ڈیوٹی ہے، نوید قمر نے کہا کہ صرف ٹیکس ریونیو نہیں، معیشت کو بھی دیکھنا ہے۔ کمیٹی نے موبائل فونز پر ٹیکسوں کے معاملے پر مارچ کے وسط میں رپورٹ مانگ لی۔
نوید قمر کا کہناتھا کہ ہم نئے بجٹ سے پہلے موبائل فونز پر ٹیکس کے معاملے کا جائزہ لیں گے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ اسمارٹ موبائل فون سامان تعیش نہیں، ٹیکس کم کریں۔



















