سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ارکان نے کہا کہ کمرشل بینک ہدایات کے باجود مقامی پےپال ڈیبٹ کارڈ کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔ مہنگے تعلیمی اداروں کی جانب سے اسکول فیس کی ویزا ماسٹر کارڈ سے ادائیگی کا تقاضا معمول بن چکا۔ کمیٹی نے مقامی پے پال ڈیبٹ کارڈ کے فروغ کی ہدایت کردی۔ اجلاس میں آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ پر بحث بھی ہوئی۔ ارکان نے کہا کہ 5300 ارب روپے کرپشن کی نشاندہی سے ملک کی بدنامی ہوئی۔ وزیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر آئندہ اجلاس میں آکر وضاحت دیں۔
ارکان نے شکوہ کیا کہ کمرشل بینک اسٹیٹ بینک کی واضح ہدایات کے باوجود مقامی ڈیبٹ کارڈز کو فروغ نہیں دیتے۔ مہنگے تعلیمی ادارے بھی فیس پے پال کے بجائے صرف ویزا اور ماسٹر کارڈ کے ذریعے قبول کرتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک حکام نے بریفنگ دی کہ ملک میں 5 کروڑ 30 لاکھ ڈیبٹ کارڈ اور20 لاکھ سے زائد کریڈٹ کارڈ استعمال ہو رہے ہیں، مگر پے پال کارڈ کا مارکیٹ شیئر صرف 26 فیصد ہے۔ پے پال کارڈ پر کوئی ٹرانزیکشن فیس نہیں، اسے اے ٹی ایم، مقامی خریداری اور جلد آن لائن ادائیگیوں کے لیے بھی قابل استعمال بنایا جا رہا ہے۔
بتایا گیا کہ بین الاقوامی ویزا اور ماسٹر کارڈز پر سالانہ 20 کروڑ ڈالر تک فیس ادا کی جاتی ہے، جس پر ارکان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے مقامی پے پال کارڈ کو فروغ نہ دینے والے بینکوں کے خلاف کارروائی کی سفارش کردی۔
دوران اجلاس آئی ایم ایف کی کرپشن اینڈ ڈائگناسٹک رپورٹ بھی زیر بحث آئی۔ ارکان کمیٹی نے کہا کہ رپورٹ میں گورننس اور کرپشن سے متعلق سنگین نکات نے پاکستان کی ساکھ کو متاثر کیا۔ سینیٹر دلاور خان نے دعویٰ کیا کہ رپورٹ میں 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سینیٹر فاروق نائیک نےالزامات کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ سے بیرونی سرمایہ کاروں کو غلط پیغام ملا۔ وزارت خزانہ کے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ رپورٹ میں کوئی نئی بات نہیں، حکومت پہلے ہی 15 نکاتی فریم ورک پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا چکی ہے۔



















