گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ ملکی بیرونی قرضوں میں اضافہ نہیں کمی ہوئی ہے، پاکستان کے بیرونی قرضوں میں2022 کے بعد کوئی اضافہ نہیں ہوا، ڈیٹ ٹوجی ڈی پی ریشو 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد تک نیچے آ گیاہے،
تفصیلات کے مطابق جمیل احمد نے کہا کہ 2015سے 2022 تک سالانہ اوسطاً6.4ارب ڈالر قرضہ بڑھ رہا تھا، رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان خسارے میں رہے گا،درآمدات میں اضافے کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ کنٹرول میں ہے،رواں سال ترسیلات زر40ارب ڈالر کا ہندسہ عبورکرجائیں گی، گزشتہ مالی سال 38 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئی تھیں، نومبر 24 سے اکتوبر 25 تک خواتین کو 50 ارب کی فنانسنگ کا ہدف تھا تاہم 230 ارب جاری کیے، ایس ایم ایز فنانسنگ گزشتہ سال 550 ارب روپے سے 700 ارب روپے تک بڑھ گئی۔
ان کا کہناتھا کہ آج کی تقریب خواتین کی شراکت کے فروغ کا تسلسل ہے، خواتین کی مالی شراکت داری کیلئے ڈیجیٹائزیشن سمیت متعدد اقدامات کر رہےہیں، خواتین کی رسمی معیشت میں شراکت کو رواں سال مزید بڑھائیں گے، 10برسوں میں مرکزی بینک کے خواتین کی شراکت کے اقدامات سے شراکت 4 فیصد سے 52 فیصد ہو گئی، صنفی امتیاز 7 برسوں میں 47 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد ہو گیا، خواتین کے بینک اکاؤنٹس میں17.6ملین تک اضافہ ہواہے، خواتین کی بینکنگ سیکٹرمیں شراکت 13 فیصد سے 17 فیصد ہو گئی، پاکستان خواتین کی انٹرپرینیورشپ میں عالمی سطح پر19ویں نمبر پر آ گیاہے، رواں سال بینکنگ سیکٹرکےتعاون سے خواتین کیلئے آگاہی پروگرامز منعقد کیے گئے، ایسا ماحول بنانا ہے جس سے خواتین کو رقوم،فنڈز اور مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو۔



















