ملائشیا کیلئے گوشت ایکسپورٹ کمیٹی میں برآمدات کا حتمی بزنس پلان پیش کردیا گیا، کمیٹی ارکان نے کہا مویشیوں کی بیماریاں، پراسیسنگ اور لاجسٹکس مسائل برآمدات بڑھانے میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔
اسلام آباد میں وفاقی وزرا رانا تنویر ،جام کمال اور معاون خصوصی ہارون اختر کی زیر صدارت ملائشیا کو گوشت ایکسپورٹ کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔ جس میں وزارت تجارت، غذائی تحفظ ، سرکاری و نجی اسٹیک ہولڈرز اورمشیروں نے شرکت کی ۔ وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا ملائشیا کے معیار کے مطابق جدید سلاٹر ہاؤسز قائم ہوں گے ۔
وزیر تجارت جام کمال خان کے مطابق برآمدی لاگت میں کمی اور مراعات کیلئے بینکنگ سیکٹر اور اسٹیٹ بینک کا اہم کردار ہوگا ۔ معاون خصوصی ہاورن اختر نے کہا تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے عملی بزنس پلان تیار کیا ہے، بزنس ماڈل تیار کرنے میں وزارتوں اور کمیٹی کے تمام اراکین نے شاندار کام کیا، یہ پیکج تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، تین سے پانچ برس میں گوشت برآمدات کا حجم دو سو ملین ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس کیلئے کے لیے ہر شعبے اور اسٹیک ہولڈر کا ٹائم لائن کے ساتھ ٹاسک مقرر ہے۔ حلال گوشت سیکٹر کو صنعت کا درجہ دیا جائے گا، یہ مراعات پاکستانی حلال بیف کو عالمی منڈی میں پہنچائیں گی ۔ برآمدات بڑھیں گی اور معیشت مضبوط ہوگی ۔






















