آئی ایم ایف نے پاکستان میں ٹیکس چوری سے قومی خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان کی نشاندہی کر دی ۔ کرپشن ، ٹیکس چوری ، حقیقی آمدن چھپانے کا کلچر اور پیچیدہ قوانین کم ٹیکس وصولی کی بڑی وجوہات ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے نے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد کم از کم ڈیڑھ کروڑ کرنےکا مطالبہ کر دیا۔ جعلی رسیدوں اور ریفنڈز پر قابو پانےاور مختلف شعبوں کو حاصل ٹیکس چھوٹ یا مراعات ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستانی ٹیکس نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔ عالمی مالیاتی ادارے نےنشاندہی کی ہےکہ پاکستان میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی اصل تعداد سرکاری تخمینوں سےانتہائی کم ہیں۔ ٹیکس چوری، کرپشن اور مخصوص شعبوں کو حاصل مراعات کم ٹیکس وصولی کی بڑی وجوہات ہیں ۔ رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان 50لاکھ تک محدود ہیں ۔ حالیہ 59 لاکھ ٹیکس گوشواروں میں سے43 فیصد نے صفر آمدن ظاہر کی۔ یہی وجہ ہے گزشتہ 5سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 10فیصد تک محدود رہی ۔ ٹیکس چوری کے لئے حقیقی آمدن چھپائی جا رہی ہے یا غیرحقیقی فائلرز سسٹم میں شامل ہیں۔
آئی ایم ایف کے مطابق ٹیکس چوری کے باعث بجٹ خسارہ 3.4 ٹریلین روپے یعنی جی ڈی پی کا 3.9 فیصد ہے۔ رعائتی ایس آر اوز کے بے تحاشہ اجرا نے ٹیکس نظام مزید پیچیدہ بنا دیا۔ سال 2024 میں ایسے 168 ایس آر اوز جاری کئے گئے۔ غیر رسمی معیشت کے پھیلاؤ نے بھی قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ ایف بی آر میں مؤثر احتساب کا فقدان ، بدعنوانی کے راستےکھلے ہیں ۔ کرپشن کے مقدمات میں قانونی کارروائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ریفنڈ نظام میں اندرونی کنٹرول اور شفافیت کمزور ہے۔
آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ مختلف شعبوں کو ٹیکس چھوٹ اور رعایتیں فوری ختم کی جائیں۔ معیشت کو دستاویزی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ تمام کاروباری شعبوں کی مکمل رجسٹریشن کی جائے ۔ جعلی رسیدوں کی روک تھام ، ڈیٹا کی جانچ پڑتال مزید سخت کرنا ہوگی ۔ طویل مدتی ٹیکس پالیسی وضع کی جائے۔
اُدھر آئی ایم ایف کا تکنیکی جائزہ وفد واپس روانہ ہو گیا ۔ مذاکرات میں بجٹ تیاری میں ڈیٹا کے درست استعمال پر زور دیا گیا۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ضمنی گرانٹس کے آڈٹ کا مطالبہ کیا گیا۔ آئی ایم ایف بجٹ سازی پر تکنیکی رپورٹ جنوری میں جاری کرے گا۔






















